بابا وونگا کی وارننگ سچ ہوئی ثابت! سبھی نسلوں کو خطرے میں ڈال رہا یہ خاص ڈیوائس
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)بابا وونگا کو ان کی درست پیشین گوئیوں کے لیے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے ۔ انہوں نے ایک ایسے وقت کا تصور کیا تھا، جب لوگ کمپیکٹ الیکٹرانک گیجٹس پر اتنے زیادہ منحصر ہو جائیں گے کہ نسلیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ یہ گیجٹس آج اسمارٹ فونز کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ بابا وونگا نے اپنی پیشین گوئی میں کہا تھا کہ یہ گیجٹ انسانوں کے رویے اور نفسیاتی صحت کو کافی حد تک متاثر کرے گا۔ بابا وونگا نے پیش گوئی کی تھی کہ زندگی کو آسان بنانے کے لیے بنائی گئی وہی ٹیکنالوجی بالآخر انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔
بابا ونگا نے جو کہا تھا، وہ بالکل سچ ثابت ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ہندوستان کے نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے ایک تحقیق کی ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً 24 فیصد بچے سونے سے پہلے اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ رات کے وقت موبائل ڈیوائسز پر بڑھتا انحصار ان کی نیند کے قدرتی انداز میں خلل ڈال رہا ہے، ان میں ارتکاز کی کمی ہے اور ایسے بچوں کو تعلیمی چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بچوں میں اسمارٹ فون کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بے چینی، ڈپریشن اور ارتکاز سے متعلق مسائل بڑھ رہے ہیں۔ اسکرین کا طویل وقت اکثر جسمانی ورزش اور آمنے سامنے بات چیت کی جگہ لے لیتا ہے، جو نوجوانوں میں صحت مند جذباتی، سماجی اور جسمانی نشوونما کے لئے ضروری ہیں۔
اسمارٹ فون کو زیادہ دیر تک استعمال کرنے سے کنسٹریشن خراب ہوسکتا ہے۔ اس سے یادداشت کمزور ہو جاتی ہے اور ایسے لوگوں کی مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اسکرین کا ضرورت سے زیادہ استعمال علمی افعال کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔
مزیدپڑھیں:عمران خان نے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی تبدیلی کا فیصلہ واپس لے لیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بابا وونگا
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔