WE News:
2026-07-24@05:12:11 GMT

کیا بلوچستان کا آئندہ بجٹ عوام دوست ہوگا؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

کیا بلوچستان کا آئندہ بجٹ عوام دوست ہوگا؟

بلوچستان کے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ محکمہ خزانہ بلوچستان کے ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ 20 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ بجٹ کا مجموعی حجم 10 کھرب روپے سے زائد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی قمیت میں کمی کیوں ہو رہی ہے؟

ذرائع کا بتانا ہے کہ آئندہ مالی سال کا غیر ترقیاتی بجٹ 800 ارب اور صوبائی پی ایس ڈی پی کے 250 ارب تک ہونے کا امکان ہے۔

تعلیم، صحت اور امن و امان

محکمہ تعلیم کے لیے 170 ارب جب کہ صحت اور امن وامان کے لیے 100 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ صوبے کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ وفاق کی طرز پر کیا جائے گا۔

ذرائع کا مزید بتانا ہے کہ بجٹ میں تعلیم اور صحت کو ولیم ترجیح دی جائے گی۔ بجٹ کی تیاری کے لیے محکمہ خزانہ نے 12 ماہرین کی خدمات کنٹریکٹ پر حاصل کی ہیں۔حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مثالی قرار دے رہی ہے۔

دوسری جانب 2 روز قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی سربراہی میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین اسمبلی کی ملاقات کی جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اور مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا پاک بھارت تنازع کے بعد بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات میں تیزی ہوئی ہے؟

اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے کی مجموعی ترقی کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ اپوزیشن کا مثبت کردار جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے۔

بجٹ میں عوامی مفاد ترجیح دی جائے گی

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت شفافیت اور مشاورت کے اصولوں پر کار بند ہے۔ بجٹ میں عوامی مفاد اور صوبائی ضروریات کو ترجیح دی جائے گی۔ ترقیاتی منصوبوں میں عوامی نمائندوں کی مشاورت کو اہمیت حاصل ہے۔

عوام دوست بجٹ نہیں دیکھا

وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کوئٹہ کے مقامی تاجر مقدس احمد نے کہا کہ ہر بار عوام کو کہا جاتا ہے کہ بجے عوام دوست اور مثالی ہوگا، لیکن اپنی زندگی کے 35 برسوں میں عوام دوست بجٹ نہیں دیکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ عوام مہنگائی کی چکی میں پستی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ بجٹ میں غیر ضروری ٹیکسز کا عائد کیے جانا ہے۔ ان ٹیکسز کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی ہے اور عوام اس چکی میں پستی رہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوامی نوعیت کے نئے منصوبے شامل کرے جس سے عوام کو براہ راست فائدہ ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امن و امان بلوچستان بجٹ تعلیم سرفرازبگٹی صحت.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان بجٹ تعلیم سرفرازبگٹی آئندہ مالی سال میں عوامی عوام دوست میں عوام کے بجٹ سال کے کے لیے

پڑھیں:

دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس

دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر

نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔

ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟

ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔

کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟

حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔

دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار