برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے فریقین پر زور دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر قائم رہیں۔

اسلام آباد میں اپنے 2 روزہ دورے کے اختتام پر خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام فریقین پر زور دیں گے کہ وہ اپنے معاہدہ جاتی وعدوں کو پورا کریں۔

بھارت کی جانب سے 1960ء کے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی، پاکستان کے خلاف ان اقدامات کی ایک کڑی تھی، جن کا جواز بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں حملے کو پاکستان سے بغیر کسی ثبوت کے جوڑ کر پیش کیا تھا۔

پاکستان نے اس حملے میں کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی۔

جب ان سے 23 اپریل کو بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی (جو ممکنہ طور پر پاکستان کی آبی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے ) کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح طور پر فریقین پر معاہدے کی پاسداری کے لیے زور دیا۔

1960 کا معاہدہ دریائے سندھ کے نظام کے استعمال کو منظم کرتا ہے، پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپنے کے حصے کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو ’اعلانِ جنگ‘ تصور کرے گا۔

اسلام آباد نے بھارت کے اس اقدام کے خلاف عالمی سطھ پر قانونی چارہ جوئی شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

پاکستان کے سندھ طاس کمیشن نے رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی حکومت کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی تھی، جس میں نئی دہلی کی جانب سے معہادے کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

رائٹرز کو انٹرویو میں ڈیوڈ لیمی نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ امریکا کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی برقرار رہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے، تاکہ ایک پائیدار جنگ بندی قائم کی جا سکے، مکالمہ جاری رہے اور ہم پاکستان اور بھارت کے ساتھ مل کر یہ جان سکیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور اعتماد سازی کے اقدامات کس طرح ممکن بنائے جا سکتے ہیں؟۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دو ہمسایہ ممالک ہیں جن کی ایک طویل تاریخ ہے، لیکن حالیہ عرصے میں ان کے درمیان بمشکل کوئی بات چیت ہوئی ہے، اور ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ کوئی مزید کشیدگی نہ ہو اور جنگ بندی قائم رہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک نے ’جنگ بندی‘ میں اہم کردار ادا کیا۔

سفارت کاروں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی اب بھی نازک ہے۔

ڈیوڈ لیمی نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ دہشتگردی کے خلاف کام کرتا رہے گا، کیوں کہ یہ پاکستان، اس کے لوگوں، اور یقینی طور پر اس علاقے پر ایک خوفناک داغ ہے۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے پاکستان کے انہوں نے کے ساتھ نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان