Daily Sub News:
2026-06-03@02:24:08 GMT

قصابوں کا اتحاد

اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT

قصابوں کا اتحاد

قصابوں کا اتحاد WhatsAppFacebookTwitter 0 17 May, 2025 سب نیوز

تحریر: محمد محسن اقبال

تاریخ نے کئی جابر حکمران دیکھے ہیں جن کے نام ظلم، خون اور تباہی کی علامت بن چکے ہیں — ایڈولف ہٹلر، بینیٹو مسولینی، جوزف اسٹالن اور دیگر، جنہوں نے پورے بر اعظموں کو خون اور آنسوؤں میں نہلا دیا۔ ہٹلر کے دورِ حکومت میں ہونے والا ہولوکاسٹ لاکھوں یہودیوں کے قتلِ عام کا باعث بنا، جب کہ اس کی جارحانہ جنگوں میں عالمی جنگ دوم کے دوران 7 سے 8 کروڑ لوگ ہلاک ہوئے۔ مسولینی، اٹلی کا فاشسٹ آمر، 1935 میں ایتھوپیا پر حملہ آور ہوا اور لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔ وہ نازی مظالم میں برابر کا شریک تھا۔ اسٹالن، اگرچہ سوویت یونین کی صنعتی ترقی کے حوالے سے جانا جاتا ہے، لیکن اس نے ’گریٹ پرج‘ اور ریاستی قحط جیسے جرائم کیے، خصوصاً یوکرین میں، جہاں دو کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ ان تمام شخصیات کو تاریخ نے متفقہ طور پر ظالم قرار دیا ہے — ان کے جرائم ناقابلِ فراموش ہیں۔ وقت کے گزرنے اور دنیا میں نئے اصولوں کے رائج ہونے کے باوجود، ان نظریات کے وارث آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔

آج کے دور میں اسرائیل کے بنیامین نیتن یاہو اور بھارت کے نریندر مودی ان پرانے ظالموں کے جدید روپ بن چکے ہیں۔ دونوں عالمی سطح پر جمہوری رہنماؤں کے طور پر پیش کیے جاتے ہیں، لیکن ان کے خوشنما چہروں کے پیچھے انسانی حقوق کی پامالی اور نسلی و مذہبی ظلم کی ایک ہولناک داستان چھپی ہوئی ہے۔ نیتن یاہو نے غزہ میں متعدد فوجی آپریشنز کی نگرانی کی ۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ان حملوں میں اب تک 35,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 14,000 سے زائد بچے شامل ہیں۔ لاکھوں افراد زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔ پورے محلے اور بستیاں ، محض شدت پسندوں کو نشانہ بنانے کے بہانے سے  صفحہ ہستی سے مٹا دی گئیں ۔

مودی کا سیاسی عروج 2002 کے گجرات فسادات سے جڑا ہوا ہے، جو ان کے دورِ وزارت اعلیٰ میں ہوئے۔ ان فسادات میں 2,000 سے زائد مسلمان شہید اور ہزاروں زخمی و بے گھر ہوئے۔ قانونی طور پر وہ بری ہو چکے، لیکن ان کا کردار آج بھی متنازع ہے۔ مودی کے دور میں بھارت میں مذہبی انتہا پسندی، ہجومی تشدد، اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں خوفناک اضافہ ہوا۔ اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاؤن، 9 لاکھ سے زائد فوجیوں کی تعیناتی، کرفیو، اور مواصلاتی بلیک آؤٹ جیسے اقدامات کیے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 1989 سے اب تک مقبوضہ کشمیر میں 100,000 سے زائد کشمیری شہید، 10,000 سے زائد خواتین کی عصمت دری، اور ہزاروں افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔

نیتن یاہو اور مودی صرف سٹریٹیجک اتحادی نہیں، بلکہ فکری طور پر بھی ہم آہنگ ہیں۔ ان کی دوستی انسانیت، رواداری، اور عالمی انسانی قوانین سے نفرت پر قائم ہے۔ اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں سے لے کر مشترکہ انسداد دہشت گردی اقدامات تک، اسرائیل اور بھارت نے اپنے فوجی تعلقات کو بہت مضبوط کر لیا ہے۔ اسرائیل اب بھارت کے بڑے اسلحہ فراہم کنندگان میں شامل ہے، اور اطلاعات کے مطابق اسرائیل بھارت کو اس کے سٹریٹیجک اہداف میں، خاص طور پر پاکستان کے خلاف، بھرپور معاونت فراہم کر رہا ہے۔

حالیہ تجزیوں کے مطابق اسرائیلی فوجی ماہرین اور مشیر بھارتی عسکری اداروں میں موجود ہیں، جہاں وہ انسداد بغاوت فورسز کو تربیت دے رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف الیکٹرانک نگرانی کو بہتر بنا رہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر اور حساس پاکستانی تنصیبات کے قریب ہونے والے بعض ڈرون حملے اسرائیلی حربی حکمتِ عملی کی جھلک دکھاتے ہیں۔ یہ تعاون اب محض سفارت یا تجارت کی حد تک نہیں، بلکہ ایک عملی اتحاد بن چکا ہے جو پاکستان اور خطے کے مسلمانوں کے خلاف سرگرم ہے۔

لیکن تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ طاقتور اکثر اپنی قوت کا حد سے زیادہ اندازہ لگا لیتے ہیں اور ان اقوام کی مزاحمت کو کم سمجھتے ہیں جو جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آئی ہوں۔ پاکستان، جو 1947 میں بے شمار قربانیوں سے معرضِ وجود میں آیا، نے کبھی اپنی عزت اور خودمختاری کے دفاع سے پیچھے قدم نہیں ہٹایا۔ 1948، 1965، 1971 کی جنگوں سے لے کر 1999 کی کارگل جھڑپ اور 2019 میں آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ میں بھارت کی جارحیت کا فوری، منظم، اور مؤثر جواب، پاکستان نے بارہا ثابت کیا ہے کہ اس کے پاس حوصلہ بھی ہے اور صلاحیت بھی۔وقت نے ثابت کیا ہے کہ اسرائیلی سرپرستی میں بھارت نے جب جب کسی بھی مہم جوئی کا ارتکاب کیا تو پاکستان نے اس کا متحد ہو کرارا جواب دیا۔

پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، جس کا دفاعی نظام پیشہ ورانہ مہارت سے لیس اور مکمل طور پر منظم ہے۔ لیکن اس سے بڑھ کر، پاکستان کے عوام کا عزم و حوصلہ ہے۔ قبائلی علاقوں سے لے کر کراچی کی گلیوں تک، سکردو کے پہاڑوں سے لے کر پنجاب کے میدانوں تک، جب بھی پاکستان کی خودمختاری کو خطرہ درپیش ہوتا ہے، پوری قوم یکجا ہو جاتی ہے۔ کوئی طاقت، کوئی اتحاد، اور کوئی سازش اس اتحاد کو توڑ نہیں سکتی۔ پاکستان کو توڑنے یا جھکانے کا خواب، ماضی کی طرح، ایک سراب ہی رہے گا۔

یہ ستم ظریفی ہے کہ اقوام متحدہ، عالمی فوجداری عدالت، اور انسانی حقوق کے عالمی نعروں کے باوجود، نیتن یاہو اور مودی جیسے افراد ظلم و جبر کی مہمات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جہاں ہٹلر کے گیس چیمبرز اور اسٹالن کے عقوبت خانے آج خوف کی علامت ہیں، وہاں آج جنگی طیارےغزہ پر بم برسا رہے ہیں، کشمیر میں پیلٹ گنوں کا استعمال ہو رہا ہے، ڈیجیٹل نگرانی اور معاشی پابندیاں ظلم کا نیا چہرہ بن چکی ہیں۔ طریقے بدل گئے ہیں، لیکن سوچ وہی ظالمانہ ہے۔

یہ بات واضح ہو جانی چاہیےکہ تاریخ کو وقت لگتا ہے، لیکن وہ بھولتی نہیں۔ آج کے ظالم کل کا حساب ضرور بھگتیں گے۔ جس طرح ہٹلر اور مسولینی کا انجام عبرت بن چکا ہے، نیتن یاہو اور مودی کی یاد بھی سیاست سے زیادہ انسانی دکھ اور مظالم کی علامت بنے گی۔ ان کے نام کبھی بھی عظمت کی یادگاروں پر نہیں کندہ ہوں گے، بلکہ ظلم کے حاشیوں پر درج ہوں گے۔ اور ان کے مقابل کھڑے ہوں گے — غزہ، کشمیر، اور پاکستان کے عوام — ثابت قدم، بے خوف، اور ناقابلِ شکست۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاک بھارت جنگ بندی کروانے پر زندگی میں سب سے زیادہ سراہا گیا، ٹرمپ ہاتھی والے یہ خون تھا جو لفظوں سے بلند آواز میں بولا ماں کی محبت امن کیوں ضروری ہے یہ فوج ہماری ہے ترکوں کا ہیرو،  اپنے گھر میں اجنبی! TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود