پاک بھارت تعلقات، درپیش چیلنجز
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
پاکستانی قوم نے یوم تشکر ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ دشمن کے ساتھ وہ کیا جسے دنیا یاد رکھے گی، اب کامل یقین ہے کہ آبی وسائل کی تقسیم، جموں و کشمیر تنازعہ سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق حل کرنے کے لیے مستقل امن کا راستہ اپنایا جائے گا۔
بلاشبہ ہماری مسلح افواج نے نہ صرف بھارت کی عسکری حکمتِ عملی کو شکست دی بلکہ مغربی دنیا کے عسکری ماہرین کو بھی حیران کردیا۔ درحقیقت پاکستانی فوج محض ایک دفاعی قوت نہیں بلکہ ایک ایسی پیشہ ور فوج ہے جو ہر سطح پر کسی بھی چیلنج کا سامنا کرسکتی ہے۔ عسکری تجزیہ کاروں نے پاکستان کی اس کامیابی کو ایک ’’بڑی اسٹرٹیجک فتح‘‘ قرار دیا ہے۔
اس جنگ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ پاکستانی افواج کا انٹیلیجنس نظام، لاجسٹک سپورٹ اور فیصلہ سازی کا عمل دنیا کی بڑی افواج کے معیار پر پورا اترتا ہے۔درحقیقت مودی کی اس چال کا واضح مقصد پاکستان کو اشتعال انگیزی پر اُکسا کر عالمی سطح پر تنہا کرنا تھا لیکن پاکستان کی طرف سے اس ساری صورتحال کو کمال صبر و تحمل سے ہینڈل کیا گیا۔ پاکستان نے چینی جنگی جہازوں اور میزائلوں کی مدد سے بھارتی جارحیت کو خطے کے توازن میں بدل دیا ہے۔ بھارت کی نفسیاتی برتری، جو اس کا سب سے بڑا ہتھیار تھی، نیست و نابود ہو چکی ہے۔ نہ صرف بھارت کی نفسیاتی برتری بلکہ اس کے جنگی جہاز بالخصوص تین رافیل طیارے بھی تباہ ہوئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی بھارت کا اَکھنڈ بھارت کا خواب بھی چکنا چور ہوگیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک نئے دورکا آغاز ہے۔ دنیا اب پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اب خطے کی قیادت پاکستان کے ہاتھ میں ہے۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ جریدے دی ڈپلومیٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں پاک بھارت حالیہ جنگ میں پاکستان کی فتح اور بھارت کی سفارتی و عسکری ناکامی کو تسلیم کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کو عسکری محاذ پر پاکستان کے جوابی حملوں کے سامنے شکست کا سامنا کرنا پڑا، جب کہ سفارتی سطح پر بھی اسے عالمی تنقید اور خفت اٹھانا پڑی۔ دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی دفاعی تیاریوں اور سیاسی بصیرت سے دنیا کو متاثر کیا ہے۔
یہ بات اب امریکا سمیت بین الاقوامی برادری کے بہت سے ارکان مان رہے ہیں کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو دیکھا جائے تو پون صدی سے زائد عرصے سے حل طلب یہ مسئلہ عالمی برادری کے لیے ایک بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
بھارت نے تنازع کشمیر پر امریکی ثالثی کی پیشکش کو ایک بار پھر ٹھکرا دیا ہے، بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر نے واضح کردیا ہے کہ بھارت اور پاکستان دو طرفہ طور پر مسائل حل کریں گے، اس معاملے پر کئی برسوں سے قومی اتفاق رائے ہے کہ پاک بھارت مسائل دو طرفہ طور پر حل کیے جائیں گے اور اس پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، دوسری جانب بھارتی میڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی زہر اگلنا شروع کردیا ہے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ پہلگام حملے میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ نریندر مودی ہندوستان کے متنازع ترین کردار رہے ہیں، ان کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، مسلمانوں کے خلاف نفرت ابھارنے میں ان کا اہم کردار ہے۔
انھوں نے ہندو انتہا پسند تنظیم ’’ آر ایس ایس‘‘ سے تربیت پائی۔ خیال یہی کیا جا رہا تھا کہ انتخابات میں آستینیں چڑھا کر تقریریں کر کے لوگوں میں جوش ابھارنے کے بجائے اب وہ ہوشمند رہنما ثابت ہوں گے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ مذہبی منافرت کو جو ان کے کردار کے ساتھ جڑ چکی ہے کو اپنے جسم سے کیسے دور کر سکتے تھے۔ اب ان کا خیال تھا کہ ان کے پاس چونکہ جدید اسلحہ ہے اس لیے انھوں نے ایک بار پھر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی کیونکہ مودی اور اس کے حواری پورے ساؤتھ ایشیا کو گریٹر انڈیا اور چین کا مقابلہ کرنے کے لیے واحد راستہ اکھنڈ بھارت سمجھتے ہیں۔ پاکستان کی فوجی حکمتِ عملی اور دلیرانہ اقدامات کی بناء پر مودی کی چھیڑی ہوئی جنگ کو بھارت کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی شکست میں تبدیل کر دیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایک طویل عرصے کے بعد کشمیر کا ایشو ایک بار پھر سے دنیا کی نظروں میں آ گیا ہے۔
دنیا کو سمجھ جانا چاہیے کہ مستقل امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل بنیادی عمل ہے۔ پاکستان کی تمام قوتیں بھارت کے ساتھ بہرحال اچھے تعلقات کی خواہشمند ہیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے بھی وہ پر امن اور منصفانہ عمل کی حامی ہیں۔ جب کہ اس کے برعکس بھارت میں ایک کثیر تعداد موجود ہے جو مذہبی انتہا پسندی کی قائل ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف رہتی ہے۔ اس جنگ کے بعد صورتحال بدل چکی ہے اور اب پاکستان کو اپنے قومی مفادات بالخصوص مسئلہ کشمیر پر اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ جو جنگ بندی کے عمل میں سہولت کار کے طور پر سامنے آئے ہیں ان سے مظلوم کشمیری توقع کرتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کو وہاں کے عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ صدر ٹرمپ اور دیگر امریکی حکومتی عہدیداروں کی کوششوں سے جنگ بندی ممکن ہوئی ہے اور جنگ بندی بھارت کے مفاد میں ہے کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بھارتی حکومت کے قابو سے باہر ہونے کا ادراک سب کو ہے۔
بھارت ہر بار کشمیر میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کا ذمے دار پاکستان کو ٹھہرا دیتا ہے جب کہ چند سال قبل بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کٹجو نے مودی کو انتباہ کیا تھا کہ کشمیری حریت پسندوں نے جس طرح کی تحریک شروع کر رکھی ہے وہ دن دور نہیں جب کشمیری حریت پسند وقت اور جگہ کا خود تعین کر کے بھارتی فوجیوں پر چھاپہ مار حملوں کا سلسلہ تیز کریں گے جن میں ہربار بھارتی فوجیوں کا جانی نقصان ہوگا اور بھارتی فوج کے لیے ان کے خلاف کارروائی ممکن نہیں ہوگی، کیونکہ کشمیر کی تقریباً پوری آبادی بھارت کے خلاف اور حریت پسندوں کے ساتھ ہے۔ خود بھارتی دانشور اس بات کی نشاندہی کرتے رہتے ہیں کہ بھارت 10 کیا 70 لاکھ فوج بھی کشمیر میں لگا دے تحریکِ آزادی کو دبا نہیں سکتا جب کہ پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں عالمی امن تہہ و بالا ہو جائیگا، لہٰذا بھارتی میڈیا، عوام اور اپوزیشن کو ٹرمپ کی ثالثی میں مسئلہ کشمیر کو منطقی انجام تک پہنچانے میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی تو ہو گئی لیکن سرحد پار سے آنے والے بیانات، تقریروں اور اشاروں پر غور کیا جائے تو محسوس یہ ہوتا ہے کہ جنگ کے بادل ابھی چھٹے نہیں ہیں، اور بھارتی قیادت نے پاکستان کے ہاتھوں جو ہزیمت اٹھائی ہے اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ بھارت کے گودی میڈیا کی ہرزہ سرائی تو پہلگام فالز فلیگ آپریشن کے بعد پہلے روز سے ہی جاری ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ پاک بھارت تناؤ کو اس حد تک بڑھانے میں سب سے گھناؤنا کردار بھارت کے گودی میڈیا کا ہی ہے کہ دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ کھڑی ہوئی تھیں۔ لگتا ہے کہ یہ دھول ابھی پوری طرح بیٹھی نہیں ہے، اور مستقبل قریب میں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کچھ نئے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نریندر مودی نے یہ بات بھی بالکل درست کہی کہ تجارت اور دہشت گردی دونوں ساتھ نہیں چل سکتے۔ اسی لیے تو پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو ہر قسم کی دہشت گردی کی فنڈنگ بند کر دینی چاہیے تاکہ اس خطے میں تجارت کو فروغ دیا جا سکے اور اس خطے میں بسنے والے عوام کی ترقی اور بہبود کے بارے میں سوچا جا سکے۔ جہاں تک جنگ بندی کے بعد مذاکرات کا تعلق ہے تو یہ ذمے داری جنگ بندی کرانے والے ممالک کی ہے کہ وہ مودی کو اس ایجنڈے سے ہٹنے نہ دیں جس کو سامنے رکھ کر یہ جنگ بندی عمل میں لائی گئی۔
جنگ بندی مذاکرات میں دہشت گردی کے حوالے سے معاملات ضرور زیر غور آئیں گے، لیکن اس دہشت گردی کے بارے میں بات ہو گی جو بھارت اس خطے اور پوری دنیا میں پھیلانے کی عملی کوششوں میں مصروف ہے، اور یہ بات کہہ کر مودی اپنے عوام کو تو بے وقوف بنا سکتے ہیں کہ مذاکرات میں کشمیر کے حوالے سے بات ہوئی تو وہ آزاد کشمیر ہو گا لیکن پاکستان کو دھوکا نہیں دے سکتے، کیونکہ پاکستان کی جانب سے جب بھی کشمیر کی بات کی گئی ہے تو اس کا مطلب مقبوضہ کشمیر ہوتا ہے، جس پر بھارت نے 77 برسوں سے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور اقوام متحدہ کی منظور کردہ قراردادوں پر عمل درآمد سے بھی مسلسل گریزاں ہے۔ یہ کہنا بے جانا ہو گا کہ بھارت کے پہلگام فالز فلیگ آپریشن اور اس کے بعد پاکستان کو دی گئی دھمکیوں، اس پر کیے گئے حملوں اور اس کی سرزمین پر بھیجے گئے ڈرونز کے بعد جو چیز سب سے زیادہ اجاگر اور نمایاں ہو کر اقوام عالم کے سامنے آئی ہے وہ مسئلہ کشمیر کے حل کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر پاکستان کو پاکستان کے پاکستان کی اور بھارت پاک بھارت بھارت کے بھارت کی کہ بھارت نے والے کے ساتھ میں پاک کے خلاف کہ پاک جنگ کے یہ بات ہیں کہ اور اس ہے اور کے بعد دیا ہے کے لیے
پڑھیں:
جنگ امن اور معیشت کی کہانی
پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔
دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔
علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔
کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔
بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔
کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔
لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔
بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔
اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔