Islam Times:
2026-06-03@08:18:40 GMT

کشمیریوں کو سکون اور امن کی ضرورت ہے، محبوبہ مفتی

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

کشمیریوں کو سکون اور امن کی ضرورت ہے، محبوبہ مفتی

پی ڈی پی کی صدر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی بھارت اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی کے دوران تُلبُل نیویگیشن پروجیکٹ کو بحال کرنے کی اپیل انتہائی افسوسناک ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے وادی کشمیر کے تُلبل نیویگیشن پروجیکٹ (Tulbul Navigation Project) کی بحالی کی تجویز دینے پر جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ پر سخت تنقید کی۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس طرح کی تجاویز بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کو دوبارہ ہوا دے سکتی ہیں۔ محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کی جانب سے وُلر جھیل اور تُلبل بیراج کی ویڈیو شیئر کرنے پر سماجی رابطہ گاہ ایکس پر نہ صرف اپنے خدشات کا اظہار کیا بلکہ ویڈیو شیئر کرنے وقت اور نیت پر بھی سوال اٹھایا۔ محبوبہ مفتی نے لکھا کہ جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی بھارت اور پاکستان کے مابین جاری کشیدگی کے دوران تُلبُل نیویگیشن پروجیکٹ کو بحال کرنے کی اپیل انتہائی افسوسناک ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ایسے وقت میں جب دونوں ممالک جنگ بمشکل ٹلی ہے اور جموں و کشمیر نے اس کی سب سے بڑی قیمت معصوم جانوں کے ضیاع، تباہی اور تکالیف کی صورت میں چکائی ہے، عمر عبداللہ کے ایسے بیانات غیر ذمہ دارانہ ہی نہیں بلکہ خطرناک حد تک اشتعال انگیز بھی ہیں۔ محبوبہ مفتی جو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر ہیں نے مزید کہا کہ کشمیریوں کو سکون اور امن کی ضرورت ہے، نہ کہ حساس معاملات جیسے پانی کی تقسیم پر سیاسی بیان بازی۔ انہوں نے کہا کہ پانی جیسی بنیادی اور حیات بخش شئی کو ہتھیار بنانا نہ صرف غیر انسانی فعل ہے بلکہ ایک دو طرفہ معاملے کو بین الاقوامی رنگت دینے کا خطرہ بھی ہے۔

محبوبہ مفتی کا یہ بیان عمر عبداللہ کے ایک روز قبل جاری کئے گئے پوسٹ پر ردعمل تھا، جس میں نیشنل کانفرنس کے رہنما اور وزیراعلیٰ نے وُلر جھیل کی 30 سیکنڈ کی فضائی ویڈیو شیئر کی تھی۔ ویڈیو میں تُلبُل نیویگیشن بیراج پر جاری سول کام کاج کو صاف طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ عمر عبداللہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا تھا کہ شمالی کشمیر میں وُلر جھیل، اس ویڈیو میں جو سول کام آپ دیکھ رہے ہیں وہ تُلبُ نیویگیشن بیراج ہے۔ عمر عبداللہ نے مزید لکھا کہ یہ کام 1980ء کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا تھا لیکن پاکستان کے انڈس واٹر ٹریٹی (آبی معاہدہ) کے تحت دباؤ کے بعد اسے روک دیا گیا۔ اب جب کہ یہ معاہدہ عارضی طور پر معطل ہو چکا ہے، میں سوچتا ہوں کہ کیا اب ہم اس پروجیکٹ کو دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ پاکستان کے کشمیر کے کہا کہ

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی