عبدالرشید منہاس نے سری نگر سے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر مکمل طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت سے نہیں بلکہ ایک دیرپا اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ نریندر مودی کی سربراہی میں قائم بی جے پی کی بھارتی حکومت کے فرقہ وارانہ ایجنڈے نے جنوبی ایشیاء کے امن کو یرغمال بنا رکھا ہے اور کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ حریت کانفرنس نے واضح کیا کہ خطے میں امن اور سیاسی و اقتصادی استحکام کے لیے تنازعہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے۔ ذرائع کے مطابق کشمیریوں کے حقیقی فورم حریت کانفرنس کے ترجمان عبدالرشید منہاس نے سری نگر سے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر مکمل طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے فوجی طاقت سے نہیں بلکہ ایک دیرپا اور نتیجہ خیز مذاکراتی عمل کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کو سراہتے ہوئے بھارت اور پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس پیشکش سے فائدہ اٹھائیں اور خطے کے بہترین مفاد کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیر کے بنیادی مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کریں۔

ترجمان نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مظالم کا سلسلہ بند، حریت قیادت سمیت تمام سیاسی نظربندوں کو رہا کرے اور علاقے سے فوجی انخلا کر کے تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان او حقیقی کشمیری قیادت سے بات چیت کا آغاز کرے۔ دریں اثنا پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور اس کی آڑ میں پاکستان پر بھارتی جارحیت اور بچوں سمیت بیگناہ شہریوں کے بہیمانہ قتل پر بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے پسے ہوئے لوگوں نے بھی بھرپور آواز اٹھائی ہے اور بی جے پی، آر ایس ایس کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کیا ہے۔ مقبوضہ علاقے کے رہائشیوں نے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے پر کئی طرح کے سوالات کھڑے کیے اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے اپنی بات چیت کے دوران اور سوشل میڈیا پر اپنی آراء کے ذریعے مودی کی زیر قیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت کی جارحانہ اور پاکستان مخالف سیاست کو بے نقاب کیا۔

مودی حکومت نے اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد مقبوضہ علاقے میں جبر و ستم کی انتہا کی اور بے انتہا ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے لوگوں کو خاموش رہنے پر مجبور کیا۔ مودی حکومت بندوق کی نوک پر قائم کیجانے والی خاموشی کو امن کا نام دے رہی ہے۔ تاہم پہلگام ڈرامے پر لوگوں نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے بھارتی میڈیا کے جھوٹے بیانیے کا بھی پول کھول دیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حریت کانفرنس کے ذریعے

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی