نااہل حکومت کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہوا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ 15 مئی 2025ء ) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ نااہل حکومت کی وجہ سے بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہوا، وزیراعظم محمد شہباز شریف محنت کرکے بجلی کے نرخ نیچے لارہے ہیں، بجلی کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے اب بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔ جمعرات کے روز وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کالاشاہ کاکو رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سب سے پہلے کاشتکاروں بھائیوں کو آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف،آرمی چیف جنرل عاصم منیر،پاک فوج کے ہر افسر اورجوان کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے رینجرز،پولیس،سول ڈیفنس،انتظامیہ اور تمام سرکاری اداروں کو شاباش دی۔(جاری ہے)
وزیراعلی مریم نواز شریف نے اپنے خطاب میں مزیدکہا کہ افواج پاکستان پر فخر ہے،قوم نے متحد ہو کر ملک کی سلامتی کیلئے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان ہے تو ہم ہیں،کاشتکار ہے،زمینیں ہیں اور خوشحالی ہے۔اللہ تعالی ملک کو تاقیامت سلام رکھے۔جب ملکی سلامتی کی بات ہو تو کوئی اختلاف اور تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔نفرت کی سیاست نے پاکستان کو کیا دیا؟نفرت کی سیاست ختم ہوئی تو پاکستان ترقی کی راہ پر چل نکلا۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ جنگ شروع ہوئی تو لوگ کہتے تھے کہ یہ چھوٹا سا ملک ہے اور یہ سب آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔اللہ تعالی نے مدد کی اوردشمن کو دھول چٹائی۔اللہ تعالی کی مدد،بدنیت اور نفرتیں پیدا کرنے والوں پر نہیں آتیں،سیاسی، عسکری قیادت عوام اور میڈیا نے جنگ کے دوران بھرپور ساتھ دیا۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ کسان بھائیوں،کاشتکاروں اور عوام کی طرف سے سیاسی اور فوجی قیادت کو سلام پیش کرتے ہیں۔یہ سرحدوں کی جنگ نہیں بلکہ نظریہ اور جذبوں کی جنگ تھی۔جنگ میں فتح کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کو مضبوط اور طاقتور ملک تسلیم کیا جارہے۔ چین، ترکیہ اوروسط ایشیائی ممالک کا پاکستان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہونا تاریخی فتح ہے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ڈوبنے کی پشین گوئی کرنے والے اب اسے معجزہ قرار دے رہے ہیں۔پاکستان کی اکانومی معجزہ بن چکی ہے،40فیصد سے تقریبا صفر پر مہنگائی کا آنا معجزے سے کم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور کے دورے کے دوران خاتون نے سبزیوں کے نرخ کم ہونے پر مبارکباد دی۔پنجاب میں جو پیاز 300 روپے کلو بکتا تھا، 50 روپے میں مل رہا ہے۔غریب کے لئے آٹے اور روٹی کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے پیٹ بھر کر کھانا آسان ہوا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ نااہل حکومت کی وجہ سے سابقہ دور میں بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف محنت کرکے بجلی کے نرخ نیچے لارہے ہیں۔بجلی کے نرخ کم ہونے کی وجہ سے اب بجلی کا بل بھی کم آئے گا۔ اوورسیز پاکستانیوں کو پیسے بھیجنے سے روکا گیا تھا مگراللہ کی مدد سے ریکارڈزرمبادلہ آرہا ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ مفت ٹریکٹر حاصل کرنے والے کاشتکاروں کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ کیش سپورٹ پر مبارکباد دیتی ہوں،شور مچایا گیا کہ کسان رل گئے۔کسان بھائیوں سے دوریاں پیدا کرنے کی کوششیں ناکام ہوئیں۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کے کسان تاریخی پیکج سے مستفید ہورہے ہیں۔کسان بھائیوں نے پراپیگنڈے پر کان نہیں دھرے اور میری اپیل پر گندم اگائی۔میں نے کہا کہ کاشتکار بھائی بے دھڑک گندم اگائیں،نقصان نہیں ہونے دیں گے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ گندم کی سپورٹ پرائس کی بجائے کاشتکار کو ڈائریکٹ سبسڈی دے رہے ہیں۔روٹی اورآٹا سستا ہونے کی وجہ سے غریب کے لئے پیٹ بھرنا آسان ہو گیا ہے۔چاہتی ہوں تمام وسائل کسان بھائیوں کے قدموں میں رکھ دیں لیکن توازن قائم کرنے کے لئے بعض سخت فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ گندم کے کاشتکاروں کو 5 ہزار فی ایکڑ سپورٹ پرائس دی جارہی ہے۔ بیج،کھاد اور پیسٹی سائز،ٹیوب ویل کے بجلی بل اور ڈیزل کا خرچ کم کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔ لوگوں نے کہا کسان کو قرض نہ دو،واپس نہیں ملے گا۔کسان کارڈ سے 85فیصد رقوم واپس ہو چکی ہیں۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ پہلے محمد نواز شریف کی حکومت میں گرین ٹریکٹر ملے، اب بھی نواز شریف کی حکومت آئی ہے تو گرین ٹریکٹر مل رہے ہیں۔ گندم کی کاشت کے موسم میں بیج اور پیسٹی سائز مہنگی اور کھاد کی قلت ہو جاتی تھی۔اللہ تعالی کے فضل وکرم سے سب کو مناسب قیمت پر وافر کھاد ملتی رہی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ اس سال جلد بوائی کی وجہ سے کاٹن 30 سے 40فیصد زیادہ ہو گی اور پیداوار6 ملین گانٹھیں ہوں گی۔کاشتکار بھائی کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں، ہمارا دل آپ کے ساتھ ہے۔ اگلا آنے والا سال مزید بہتری اور خوشحالی لائے گا۔وزیراعلی مریم نوا شریف نے کہا کہ خواہش ہے کہ ہر کاشتکار خوشحال ہو اور پاکستان زراعت کے شعبے میں سب سے آگے ہو۔رزق اللہ تعالی دیتا ہے لیکن زمین پر رزق اگانے کے لئے کاشتکار محنت کرتا ہے۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے صوبائی وزیر زراعت عاشق کرمانی،سیکرٹری زراعت افتخار سہو اور پورے ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ کو شاباش بھی دی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ کے نرخ کم ہونے ہونے کی وجہ سے کسان بھائیوں بجلی کے نرخ اللہ تعالی کے لئے
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔