کسی کو بلیک میل نہیں کرتے، جوہری صلاحیت دفاع کی ضمانت ہے،خواجہ آصف WhatsAppFacebookTwitter 0 15 August, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان نیوکلر بلیک میلنگ کر رہا ہے نہ ہی یقین رکھتے ہیں، پاکستان کے اثاثے پاکستان کے دفاع کے لیے ہیں۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت سے کسی کو خطرہ نہیں ہو سکتا۔

پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں جنگ لڑی اور جنگ جیتی، نریندر مودی کے لیے پاکستان سے جنگ ایک ڈراؤنا خواب بن چکا، مودی کو اب خواب میں بھی پاکستان اور پاکستانی افواج نظر آتی ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ مودی کے لیے دوسری جنگ بھارت کے اندر نظر آرہی ہے، بھارت میں نریندر مودی کے خلاف آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں، نریندر مودی بنیادی طور پر اپنے ووٹرز کو مطمئن کررہے ہیں۔ بھارتی شہری خود کہہ رہے ہیں کہ مودی کے رویئے سے جنگ کی نوبت آئی۔

وزیر دفاع نے کہا کہ نریندر مودی پر کانگریس سمیت چھوٹی ریاستوں کے شہری بھی تنقید کررہے ہیں، مودی بیانات دے کر گھر میں اٹھنے والا طوفان روکنے کی کوشش کررہاہے، مودی جانے اور بھارت کے سیاسی لوگ جانیں،پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج سے کچھ عرصہ قبل بھارت کا سیاسی و معاشی مقام کچھ تھا، نریندر مودی کے ہاتھوں بھارت اپنا مقام کھو بیٹھا ہے، نریندر مودی کی ناکامی بھارتی اپوزیشن کے لیے ایک موقع ہے، بھارت کی اپوزیشن مودی کی ناکامیوں سے فائدہ اٹھا رہی ہے، بھارتی اپوزیشن کے لیے موقع ہے کہ پھر اپنا مقام بنا سکے، بھارت کے اندرونی معاملات سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مودی کی قیادت نے بھارت کو اندرونی اور بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچایا، بھارت نے دہشت گردی کی پشت پناہی کی،بین الاقوامی سطح پر بھی بدنام ہوا، کینیڈا اور پاکستان میں دہشت گردی بھی نریندر مودی نے ہی کرائی۔ نریندر مودی کے چہرے پر دہشت گردی کا دھبہ لگ چکا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں کالعدم بی ایل اے اور تحریک طالبان بھارت کی پراکسیز ہیں، پاکستان نے بھارتی دہشت گردی کے ثبوت عالمی فورم پر جمع بھی کرائے، اگر اچھے ہمسایوں کی طرح رہا جائے تو برصغیر میں امن ممکن ہے، برصغیر کے عوام بھی معاشی ترقی حاصل کرسکتے ہیں۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرعمران خان کے ٹائیگرز نے رات جاگ کر معرکہ حق پر مہم چلائی لیکن انہیں ایوارڈ نہیں دیا گیا: فیصل جاوید عمران خان کے ٹائیگرز نے رات جاگ کر معرکہ حق پر مہم چلائی لیکن انہیں ایوارڈ نہیں دیا گیا: فیصل جاوید وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف 5 روزہ سرکاری دورے پر جاپان روانہ پاکستان کے ارب پتی بزنس ٹائیکونز کی فہرست جاری، بیسٹ وے گروپ کے سر انور پرویز 3 ارب 62 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کے.

.. مودی حکومت نے فوجی افسران کو گیم شو میں شامل کر کے ادارے کے وقار کو مجروح کردیا رافیل طیاروں کی ناکامی کے باوجود مودی سرکار کی فرانس سے معاہدے کی کوشش موڈیز کی ریٹنگ اپ گریڈ سے پاکستان کی معیشت پر عالمی اعتماد میں اضافہ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: نریندر مودی کے خواجہ ا صف نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم