افریقی سیاسی جماعتوں کا اجلاس؛ مشاہد حسین کا ایشیا میں’’منڈیلا ماڈل‘‘ کی تقلید پر زور
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
مشاہد حسین سید نے افریقی سیاسی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کے دوران ایشیا میں مفاہمت کے ’’منڈیلا ماڈل‘‘ کی تقلید پر زور دیا۔
مشاہد حسین سید تاریخی اہمیت کے حامل پہلے افریقی سیاسی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کے لیے خصوصی طور پر مدعو کیے گئے اور اولین ایشیائی رہنماؤں کی صف میں شامل ہوگئے۔
تفصیلات کے مطابق یہ اجلاس گھانا کی میزبانی میں منعقد ہوا جس میں 40 سے زائد افریقی ممالک کے 200 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ مشاہد حسین سید کو یہ دعوت ایشیائی سیاسی جماعتوں کی بین الاقوامی کانفرنس (ICAPP) کے شریک چیئرمین اور پاکستان کے افریقا پر مبنی پہلے تھنک ٹینک پائیدار (PAIDAR) کے صدر کی حیثیت سے دی گئی تھی۔
گھانا کی حکومت کے سرکاری مہمان کی حیثیت سے اس دورے کے دوران مشاہد حسین سید نے گھانا کی نائب صدر جین نانا، صدرِ گھانا کے چیف آف اسٹاف جولیئس دیبرا اور ایتھوپیا کے نائب وزیرِاعظم ابراہیم فراح سمیت دیگر رہنماؤں سے کئی اہم ملاقاتیں کیں۔
اپنے خطاب میں سینیٹر مشاہد نے پاکستان کی مستقل اور اصولی پالیسی کا ذکر کیا جو افریقی آزادی کی تحریکوں کی حمایت پر مبنی ہے جن میں الجزائر، تیونس، مراکش، اریٹیریا، صومالیہ، جنوبی افریقا، نمیبیا اور زمبابوے کے علاوہ کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ شامل ہیں۔
انہوں نے 1955 کی بنڈونگ کانفرنس کا بھی حوالہ دیا جو انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو نے منعقد کی تھی اور جس کا شریک میزبان پاکستان تھا اور جس نے افریقا ایشیائی یکجہتی کی بنیاد رکھی۔
اپنے افریقا کے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر مشاہد حسین نے مختلف افریقی ممالک کے اپنے دوروں کا ذکر کیا جن میں جنوبی افریقا، روانڈا، انگولا، نائیجیریا، کینیا، یوگنڈا، مصر، الجزائر، لیبیا، مراکش اور تیونس شامل ہیں۔
انہوں نے بطور وفاقی وزیرِ اطلاعاتِ پاکستان اپنے کردار کا بھی ذکر کیا جب انہیں مئی 1999 میں عظیم افریقی رہنما نیلسن منڈیلا کے پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران بطور وزیر برائے استقبالیہ خدمات انجام دینے کا اعزاز حاصل ہوا۔
سینیٹر مشاہد حسین نے اس موقع پر پاکستان افریقا انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اینڈ ریسرچ (PAIDAR) کا تعارف بھی پیش کیا جو افریقا پر مبنی پاکستان کا پہلا تھنک ٹینک ہے اور یہ اب پاکستان افریقا تعلقات کو فروغ دینے کے لیے بنیادی غیر سرکاری پلیٹ فارم کے طور پر ابھرا ہے۔
مزید برآں، انہوں نے امن اور مفاہمت کے ’’منڈیلا ماڈل‘‘ کو سراہا اور اسے ایشیا کے لیے موزوں قرار دیا کیونکہ یہ ایک پُرامن اور جمہوری راستہ فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر منڈیلا سے اپنی ملاقاتوں کے بعد وہ اس بات پر قائل ہوگئے کہ ’’مینڈیلا ماڈل‘‘ استحکام کی کنجی ہے کیونکہ اس کے تین اہم نکات ہیں۔
پہلا، صدر منڈیلا پالیسی میں کشادہ دلی کے بڑے حامی تھے، یعنی ’’معاف کرو اور بھول جاؤ‘‘ کے اصول پر کاربند رہے تاکہ معاشرے اور ریاستیں آگے بڑھ سکیں اور مستقبل پر نظر رکھ سکیں۔
دوسرا، ’منڈیلا ماڈل‘ انتقام، کینہ اور سیاسی انتقامی کارروائی کی سیاست کو مسترد کرتا ہے کیونکہ اس سے ماضی پرستی کو فروغ ملتا ہے۔
تیسرا، ’منڈیلا ماڈل‘ مشمولہ اور ادارہ جاتی جمہوریت پر مبنی ہے جس میں عوامی عہدے کو عوام کی امانت سمجھا جاتا ہے اور جنوبی افریقہ کے صدر کی حیثیت سے اپنی ایک منتخب مدت مکمل کرنے کے بعد رضاکارانہ طور پر صدارت سے سبکدوش ہونا شامل ہے۔ جبکہ ایشیا اور افریقا کے بیشتر ممالک طاقت کے بھوکے سیاستدانوں کے رحم کرم پر ہیں۔
علاوہ ازیں، مشاہد حسین نے مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حقِ خودارادیت کے ضمن میں حمایت پر منڈیلا کے کردارکو سراہا اور انہیں ایک اصول پسند ریاستی رہنما قرار دیا۔
آخر میں سینیٹر مشاہد حسین نے اکیسویں صدی کو ’’گلوبل ساؤتھ‘‘ کی نشاۃ ثانیہ کی صدی قرار دیا جس میں ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکہ شامل ہیں۔ انہوں نے گھانا کے پہلے صدر کوامی نکروما کو پان افریقن اتحاد کے رہنما کے طور پر خراجِ تحسین پیش کیا اور اکرا میں ان کے مقبرے پر حاضری دی کیونکہ وہ غیر وابستگی تحریک کے معماروں میں بھی شامل تھے۔
مشاہد حسین سیدنے افریقی رہنماؤں کو یقین دلایا کہ پاکستان افریقا تعلقات سفارت کاری، تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم و آئی ٹی کے علاوہ کان کنی اور اہم معدنیات کے شعبوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔
اپنے دورے کے دوران سینیٹر مشاہد حسین نے یوم آزادی پاکستان کی تقریب میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کیا اور افریقی تھنک ٹینکس، میڈیا اور کاروباری رہنماؤں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینیٹر مشاہد حسین نے مشاہد حسین سید سیاسی جماعتوں کے دوران انہوں نے
پڑھیں:
ایمریٹس کپتان دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے پائلٹس میں شامل
مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایمریٹس ایئرلائن (Emirates Airline)نے 2026 میں بھی دنیا کی سب سے زیادہ پرکشش اور زیادہ تنخواہیں دینے والی ایئرلائنز میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق ایمریٹس نہ صرف اپنے پائلٹس کو خطیر تنخواہیں فراہم کر رہی ہے بلکہ انہیں متعدد اضافی مراعات بھی دی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے تجربہ کار پائلٹس اس ایئرلائن میں ملازمت کو ترجیح دیتے ہیں۔ اعلیٰ معیارِ زندگی، ٹیکس فری آمدن اور بہتر کیریئر مواقع اسے عالمی سطح پر ایک نمایاں ایئرلائن بناتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ایمریٹس میں کام کرنے والے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ آمدن تقریباً 4 لاکھ 20 ہزار سے 6 لاکھ 20 ہزار درہم کے درمیان ہوتی ہے، جو امریکی کرنسی میں تقریباً 1 لاکھ 14 ہزار سے 1 لاکھ 69 ہزار ڈالر کے برابر بنتی ہے۔ تنخواہ کا انحصار طیارے کی قسم اور تجربے پر ہوتا ہے، خاص طور پر بوئنگ 777 اور ایئربس A380 جیسے طویل فاصلے کے طیاروں پر تعینات پائلٹس زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں۔
دوسری جانب کپتانوں کی تنخواہیں اس سے کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2026 میں ایمریٹس کے کپتان سالانہ 9 لاکھ سے 14 لاکھ 50 ہزار درہم تک کما سکتے ہیں، جو تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار سے 3 لاکھ 95 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ الٹرا لانگ ہال طیاروں جیسے ایئربس A380 کے کپتان اضافی الاؤنسز اور فلائنگ ڈیوٹی کی وجہ سے اس سے بھی زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،شہباز شریف
ایمریٹس کی سب سے بڑی کشش اس کی ٹیکس فری تنخواہ ہے، جس کے باعث پائلٹس کی خالص آمدن دیگر مغربی ممالک کی ایئرلائنز کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کمپنی اپنے ملازمین کو رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، سفری الاؤنس، میڈیکل اور انشورنس سہولیات، اہل خانہ کے لیے سفری رعایتیں، بچوں کی تعلیم میں مدد اور بیرون ملک قیام کے دوران ہوٹل و کھانے کے اخراجات جیسی مراعات بھی فراہم کرتی ہے۔
بیڑے کے حوالے سے ایمریٹس دنیا کے سب سے بڑے وائیڈ باڈی طیاروں کے آپریٹرز میں سے ایک ہے، جس میں 116 ایئربس A380، 118 بوئنگ 777-300ER، 10 بوئنگ 777-200LR اور 19 ایئربس A350-900 شامل ہیں۔ کمپنی نے مستقبل کے لیے مزید 359 طیاروں کے بڑے آرڈرز بھی دیے ہیں جن میں بوئنگ 777-9، بوئنگ 777-8، بوئنگ 787 اور ایئربس A350 شامل ہیں۔
پائلٹ بننے کے لیے ایمریٹس میں سخت معیار مقرر ہیں۔ فرسٹ آفیسر کے لیے کم از کم 2 ہزار فلائنگ آورز جبکہ کپتان کے لیے 7 ہزار سے زائد فلائنگ آورز کے ساتھ ساتھ ہزاروں گھنٹوں کا کمانڈ تجربہ لازمی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی سول ایوی ایشن کے لائسنس، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور انگریزی زبان میں مہارت بھی بنیادی شرائط میں شامل ہیں۔