Islam Times:
2026-07-24@05:02:49 GMT

اتحادِ امت: فتنوں کے مقابلے کا واحد راستہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

اتحادِ امت: فتنوں کے مقابلے کا واحد راستہ

اسلام ٹائمز: آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی، مسلکی اور گروہی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر امت کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھیں۔ قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر باہمی احترام اور برداشت کو فروغ دیں۔ مسجد، مدرسہ، منبر اور میڈیا کو اتحاد کا ذریعہ بنائیں۔ نوجوانوں کو فرقہ واریت سے دور رکھ کر اسلامی اخوت، علم و تحقیق اور فکری آزادی کی تعلیم دیں۔ علمائے کرام اپنے خطابات اور تحریروں میں اتحاد و اتفاق کا پیغام عام کریں۔ تحریر: اسرار احمد

تمام تعریفیں اس پاک پروردگار کے لیے ہیں جو زمین و آسمان کا مالک، کل کائنات کا خالق اور انبیائے کرام علیہم السلام کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے مبعوث فرمانے والا ہے۔ وہی رب جو خیر و شر کی پہچان عطا کرتا، صراطِ مستقیم دکھاتا اور آزمائشوں کے اندھیروں میں نورِ ہدایت بخشتا ہے۔ آج امت مسلمہ ایک نازک اور پُرآزمائش دور سے گزر رہی ہے۔ طاغوتی، شیطانی اور دجالی فتنوں نے ہر سمت سے گھیراؤ کر رکھا ہے۔ دشمنانِ اسلام مختلف چہروں، نعروں اور نظریات کے ذریعے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔ تاہم، ان سازشوں اور فتنوں کے باوجود اہلِ حق آج بھی حق کی صدا بلند کر رہے ہیں اور امت کے اتحاد اور بیداری کے لیے کوشاں ہیں۔

موجودہ دور میں وہ علمائے کرام، اسکالرز، محققین اور مفکرین جو حالات کا ادراک رکھتے ہیں، شیطانی طاقتوں، استعماری ایجنڈوں اور مغربی سازشوں کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آج کے فتنوں کا مقابلہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب امتِ مسلمہ اتحاد، اخوت اور بھائی چارے کو اپنا اصل سرمایہ بنائے۔ امت کو درپیش تمام مسائل کا حل ایک ہی بنیادی اصول میں پنہاں ہے، اور وہ ہے "اتحاد"۔ یہی وہ طاقت ہے جو تعصب، تکفیر اور تفرقہ جیسے زہریلے رجحانات کا علاج ہے۔ اسی کے ذریعے فکری و تہذیبی فتنوں کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اگر ہم تاریخ پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ جب امت نے اتحاد کا مظاہرہ کیا تو بڑی سے بڑی طاقتیں بھی ان کے سامنے جھک گئیں۔ خلافتِ راشدہ، صلاح الدین ایوبی کی قیادت اور دیگر کئی مثالیں اس حقیقت کا ثبوت ہیں۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مختلف فقہی مسالک اور مذہبی طبقات پائے جاتے ہیں، ایک وقت تھا جب اختلافات کے باوجود باہمی احترام، محبت اور حسنِ سلوک غالب تھا۔ سنی، شیعہ، دیوبندی، بریلوی، اہلِ حدیث سب ایک دوسرے کے جذبات کا لحاظ رکھتے تھے۔ مذہبی تہواروں پر باہمی رواداری کا ماحول دکھائی دیتا تھا۔

بدقسمتی سے وقت کے ساتھ کچھ خودغرض عناصر نے اس پرامن فضا کوخراب کر دیا۔ ایک مخصوص طبقے نے فرقہ واریت، تکفیر اور الزامات کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس نے امت کے شیرازے کو بکھیر دیا۔ مذہبی تقریبات اور خطبات کو اشتعال انگیزی کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ یہ سب کچھ محض اتفاق نہیں بلکہ عالمی استعماری قوتوں کی سوچی سمجھی سازش تھی، جو جانتی ہیں کہ اگر مسلمان متحد ہو گئے تو دنیا میں اسلام غالب آ جائے گا۔ اسی لیے زبان، نسل، مسلک، جغرافیہ اور سیاست کی بنیاد پر ہمیں تقسیم کیا جا رہا ہے۔

حالیہ ایران-اسرائیل جنگ اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتی ہے کہ جب مسلمان قیادت ایمانی بصیرت اور جرأت کے ساتھ دشمن کے سامنے ڈٹ جائے، تو بڑی سے بڑی عسکری طاقتیں بھی شکست کھا جاتی ہیں۔ ایران کی قیادت نے فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے قربانیاں دیں، شہادتیں پیش کیں اور دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی، کیونکہ:

وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَنْ يَنصُرُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
اللہ ضرور اُس کی مدد کرتا ہے جو اللہ کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ زبردست اور غالب ہے۔ (الحج: 40)

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذاتی، مسلکی اور گروہی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر امت کے اجتماعی مفاد کو مقدم رکھیں۔ قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر باہمی احترام اور برداشت کو فروغ دیں۔ مسجد، مدرسہ، منبر اور میڈیا کو اتحاد کا ذریعہ بنائیں۔ نوجوانوں کو فرقہ واریت سے دور رکھ کر اسلامی اخوت، علم و تحقیق اور فکری آزادی کی تعلیم دیں۔ علمائے کرام اپنے خطابات اور تحریروں میں اتحاد و اتفاق کا پیغام عام کریں۔

یاد رکھیے! امتِ مسلمہ کا اتحاد ہی اس کے عروج کی ضمانت ہے۔ اگر ہم نے آج بھی ہوش نہ کیا تو دشمن ہمارے عقائد، تہذیب اور خودمختاری کو مٹا دے گا۔ آخر میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں فروعی اختلافات کو نظر انداز کرکے ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا جہاں امت کی بھلائی، اسلام کی سربلندی اور انسانیت کی فلاح مقصد ہو۔ یہی وقت ہے کہ ہم اتحاد کو اپنا ہتھیار بنائیں، اللہ کے حکم پر عمل کریں، اور یاد رکھیں:

مسلمانوں کا اتحاد، عالمِ کفر کی موت ہے

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہے کہ ہم امت کے

پڑھیں:

کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک

کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن  تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

 پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد

پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک

متعلقہ مضامین

  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک