پاکستان کو نفرت نہیں، محبت، برداشت اور اتحاد کی ضرورت ہے،عرفان صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سینیٹ میں پارلیمانی پارٹی کے لیڈر سینیٹر عرفان صدیقی نے پاکستان کے موجودہ حالات، آئین، وفاقی یکجہتی، اور جمہوری عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو نفرت نہیں بلکہ محبت، برداشت اور اتحاد کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے دوران انہوں نے کہا کہ شاید ہی کوئی قوم ہو جو حکومت سے مکمل طور پر خوش اور متفق ہو، لیکن یہ اختلاف آئینی دائرے میں رہ کر ہی مفید ثابت ہوتا ہے۔
عرفان صدیقی نے پاکستان کو ایک عظیم نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ1947 کے مقابلے میں آج 2025 میں پاکستان کا مقام بلند تر ہے۔ ہمیں اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے اور اسے مزید مستحکم بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
آئین ہمارا مشترکہ اثاثہ ہے
سینیٹرعرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا آئین تمام اکائیوں کی شراکت سے وجود میں آیا، جس کی بنیاد پر وفاق مضبوط ہے۔آئین میں ترامیم کی گنجائش ہوتی ہے تاکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق بہتری لائی جا سکے، مگر اس کی بنیادیں تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی قانون سینیٹ میں خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے نمائندوں کی حمایت کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا،جو وفاقی ہم آہنگی کی واضح مثال ہے۔
نفرت بانجھ ہوتی ہے، محبت پائیدار
سینیٹرعرفان صدیقی نے سیاسی جماعتوں کو نفرت کی سیاست سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ محبت ہمیشہ باقی رہتی ہے، جبکہ نفرت بانجھ کھیتی ہے۔ پنجاب کو گالی دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، ہمیں ایک دوسرے کو دشمن نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے بلوچستان اور پختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں فوج اور پنجابی عوام نے دی ہیں، مگر ہم نے کبھی کسی قوم یا صوبے کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔
فوج ہماری اپنی ہے، ہمارا تحفظ ہے
افواج پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہاکہ فوج ہماری ہے، ہمارے تحفظ کا قلعہ ہے۔ اس پر داغ ضرور ہوں گے، لیکن کیا ہمارے دامن پر کوئی داغ نہیں؟ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستانی افواج نے کئی بار عالمی سطح پر اپنے سے کہیں بڑے دشمنوں کو شکست دی، جس کی دنیا معترف ہے۔
جمہوریت اور آئین کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے
سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر آج پاکستان میں مارشل لاء ہوتا تو شاید ہم یہاں بیٹھ کر ایسی باتیں نہ کر رہے ہوتے۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہماری خودمختاری کا ضامن ہے، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے قومی وحدت کو فروغ دینا ہوگا۔
صوبے ہمارے سر کا تاج ہیں
عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کے تمام صوبے ہمارے سر کا تاج ہیں، اور ہر پاکستانی ہمارے دل کا حصہ ہے۔ مجھے پشاور پاکستان کے کسی بھی دوسرے شہر سے زیادہ اچھا لگتا ہے — یہ اتحاد اور محبت کا پیغام ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان پاکستان کے نے کہا کہ انہوں نے ہوئے کہا
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز