اجیت دوول اورامیت شاہ بھارتی حکومت اور مودی کو لے ڈوبیں گے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
اجیت دوول اورامیت شاہ بھارتی حکومت اور مودی کو لے ڈوبیں گے، محسن نقوی WhatsAppFacebookTwitter 0 17 August, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اجیت دوول اورامیت شاہ بھارتی حکومت اور مودی کو لے ڈوبیں گے۔صوبائی دارالحکومت میں سیمینار سے اظہار خیال کرتے ہوئے محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران انٹیلی جنس اداروں کا کرداربہت اہم تھا، ہمارے چند لوگ انٹیلی جنس اداروں کو برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کے تباہ 6 طیاروں کی ویڈیو ہمارے پاس موجود ہے، ہم نے ریڈار میں طیارے گرتے دیکھ لیے تھے ، لیکن فیصلہ کیا تھا ثبوت ملنے تک ہم اعلان نہیں کریں ، پاک بھارت جنگ کے بہت سے واقعات کا عینی شاہد ہوں، مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بھارت کی تمام منصوبہ بندی ہمیں وقت سے پہلے پتہ تھی ، بھارت نے ہماری ایک ایئر بیس پر 7میزائل فائر کئے ، ایک بھی اندر نہیں گرا، ہماری جس ایئر بیس میں قیمتی اثاثے موجود نہیں وہاں ایک بھی میزائل نہیں گرا، ہم نے بھارت سے جنگ کے دوران شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا۔محسن نقوی نے کہا کہ نور خان ایئر بیس پر حملے میں بھی ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا، صرف ایک ایئر بیس پر حملے میں ہمارے جوان شہید ہوئے جب کہ بھارت کے خلاف ہماری فورسز نے تمام اہداف حاصل کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کی بہترین حکمت عملی سے ہمیں جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی ، گواہی دے سکتا ہوں فیلڈ مارشل نے جنگ میں بہترین قیادت کی، بھارت پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، ہماری سکیورٹی فورسز کے ان کے خلاف بھرپور کارروائیاں کررہی ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اجیت دوول اورامیت شاہ بھارتی حکومت چلارہے ہیں، دونوں حکومت کے ساتھ مودی کو بھی لے ڈوبیں گے۔دوسری طرف سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ کشیدگی کیدوران دوست ملکوں نے پاکستان کی بھرپورحمایت کی، پاک فضایئہ نے جنگی طیارے گرا کر بھارت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف سول وعسکری قیادت نے حکمت اور دانشمندی سے فیصلے کیے، فیلڈ مارشل کی بہترین حکمت عملی کی بدولت معرکہ حق میں عظیم فتح ملی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسیلاب متاثرین کیلئے ہمارے پاس وسائل موجود ، کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، علی امین گنڈاپور سیلاب متاثرین کیلئے ہمارے پاس وسائل موجود ، کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، علی امین گنڈاپور آرمی چیف کی خصوصی ہدایت کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی تقسیم جاری افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن 31اگست، رجسٹریشن ختم کرنے کے انتظامات مکمل طوفانی بارشیں، بونیر میں شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، ایک ہی خاندان کے 21افراد جاں بحق کرپشن اور انسانی اسمگلنگ، سابق سرکاری افسر سمیت 2 ملزمان گرفتار بارشوں میں مزید شدت متوقع ہے،3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے حکام کی بریفنگCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ محسن نقوی کہ بھارت ایئر بیس مودی کو کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
حکمران اکثر یہ بات کرتے رہتے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں سرمایہ کاری درکار ہے بلکہ ایسے بیانات مسلسل آتے رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے مطالبات پر حکومت فوری رضامندی بھی ظاہر کر دیتی ہے تاکہ قرض کی منظوری میں تاخیر نہ ہو۔ قرض منظوری کے بعد ایسے بیانات جاری ہوتے ہیں جیسے بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ ہمیں قرض کے حصول کے لیے آئی ایم ایف کی ہر شرط ماننا اور بے انتہا کوشش کے بعد قرض حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
ملک کو اس حالت میں پہنچایا جا چکا ہے کہ خود انحصاری کی منزل بہت دور ہوگئی ہے ۔ پاکستان کی ہر حکومت نے آئی ایم ایف کی ہر بات مانی لیکن خود انحصاری کی منزل نہ مل سکی۔ غیر سیاسی وزیر خزانہ بھی اس امید پر لائے گئے کہ ان کی کوشش سے ملک خود انحصاری کی طرف بڑھے گا اور غیر ملکی قرضوں کے مزید حصول کی کوشش نہیں ہوگی لیکن سب نے اپنا اولین مقصد مزید قرضے حاصل کرنا بنا رکھا ہے اور آئی ایم ایف کو ہر ممکن طریقے سے مزید قرض دینے پر آمادہ کرنا رہ گیا ہے ۔
اب بھی پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کا مزید قرضہ منظور کرا لیا گیا ہے جس کا حکومتی حلقے پرجوش خیر مقدم کررہے ہیں۔ ہر وزیر خزانہ کے بارے میں یہ دعویٰ سننے میں آتا رہاکہ وہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، لیکن معاملہ مرض بڑھتا ہی گیا جوں جوں دوا کی جیسا ہی رہا۔ آئی ایم ایف سے جان نہیں چھوٹ رہی بلکہ آئی ایم ایف مزید شرائط سخت کرتا جا رہا ہے اور حکومت کو پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے مزید قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
آئی ایم ایف اپنی ہر شرط منوا رہا ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم لیوی ہدف میں 18 فی صد اضافے کا کہا ہے جب کہ حکومت نے یہ لیوی آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی بہت زیادہ بڑھا رہی ہے مگر آئی ایم ایف ہے کہ مطمئن ہی نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے قرض دینے کے لیے کبھی یہ شرط نہیں رکھی کہ پاکستانی حکومت اپنے شاہانہ اخراجات اور حکومتی افراد کے غیر ملکی دورے کم کرکے اپنی آمدنی کے مطابق اخراجات کم کرے تاکہ اسے مزید قرضے نہ لینا پڑیں۔
موجودہ حکومت کی طرف سے پی ٹی آئی حکومت پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے سب سے زیادہ غیر ملکی قرضے لیے اور اقتدار جاتا دیکھ کر آئی ایم ایف کو مزید ناراض کرنے کے فیصلے کیے تھے جس پر نئی حکومت کو غیر ملکی قرضوں کے حصول کے لیے سخت محنت کرنا پڑی تھی اور چار سال سے عوام سرکاری طور یہ دعوے ہی سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں قرضے نہیں غیر ملکی سرمایہ کاری چاہیے۔
یہ دعوے صرف دکھاوے کے لیے ہیں اور حکومت کی اولین ترجیح غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو قرضے مانگنے کی عادت چھوڑدینی چاہیے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے حاصل مالی وسائل استعمال کرکے خود انحصاری کی عملی کوشش کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ملکی صنعتوں اور غریبوں پر ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور جو تنخواہ دار طبقہ ٹیکسز کے شکنجے میں پہلے سے پھنسا ہوا ہے اس پر اور عوام پر مزید ٹیکس بڑھا دیے گئے ہیں۔
حکومتی ٹیکسوں کی بھرمار، مہنگی بجلی و گیس پر فکسڈ چارجز لگا کر بھی حکومت مطمئن نہیں۔ عوام بجلی نہ بھی استعمال کریں اور سولر سسٹم لگائیں وہ بھی حکومت کو قبول نہیں۔ بجلی پر پہلے ہی بے شمار ٹیکس لگے ہوئے ہیں اس پر کم سے کم بجلی استعمال پر فکسڈ چارجز دو ماہ بعد ہی چھ سو سے نو سو روپے ماہانہ کر دیے گئے ہیں۔ فکسڈ چارجز سے آمدنی بڑھانے کا نیا طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے۔
عوام سانس لینے اور سڑکیں ضرور مفت استعمال کر رہے ہیں اور ہر چیز پر ٹیکس متعلقہ اداروں کو ادا کر رہے ہیں اور وزارت خزانہ ایک ہزار روپے معاوضہ لینے والوں سے بھی ڈیڑھ سو روپے ٹیکس لے رہا ہے اور بیس ہزار ماہانہ کمانے والوں سے بھی تین ہزار روپے لیے جا رہے ہیں جو حکومتی مظالم کی انتہا ہے پھر بھی حکومتی رونا ختم ہونے میں نہیں آتا اور عوام پر جھوٹا الزام کہ وہ ٹیکس نہیں دیتے۔
بڑے تاجروں سے انکم ٹیکس وصولی اور ہر سال اپنے اہداف وصولی میں ناکامی سرکار کا قصور ہے سرکاری ادارے اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔ حکومت دکھاوے کی حد تک سرمایہ کاری کو اپنی ترجیح قرار تو دیتی ہے مگر عملی طور ایسا نہیں کر رہی اور اس کی ترجیح اب بھی غیر ملکی قرضوں اور امداد کا حصول ہے۔
وزیر توانائی نے کہا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے لیے تین سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہمیں ضرورت ہے۔ ملکی صنعتوں پر پہلے سے ٹیکسوں کی بھرمار ہے ، نئی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی۔ صنعتیں باہر سے کون لائے گا یہاں تو ملکی سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہے ہے تو یہاں بیرونی سرمایہ کار کیوں آنا چاہیں گے۔ نجیبجلی کمپنیوں کو نوازنا جاری ہے ۔ ایک مخصوص طبقے کو ٹیکسوں پر چھوٹ دی جارہی ہے، جب کہ عام لوگوں کو حکومت ریلیف کیا دے گی ،اسے تو طاقتوروں کو ٹیکسوں سے چھوٹ دینے سے ہی فرصت نہیں مل رہی۔