سیلاب متاثرین کیلئے ہمارے پاس وسائل موجود ، کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
سیلاب متاثرین کیلئے ہمارے پاس وسائل موجود ، کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، علی امین گنڈاپور WhatsAppFacebookTwitter 0 17 August, 2025 سب نیوز
سوات (سب نیوز)وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کو گھر بناکر دیں گے، بستیاں قائم کریں گے، کسی پر احسان نہیں کررہے، عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، مدد دینے والوں میں سے ہوں، وسائل موجود ہیں، مدد کیلئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاوں گا۔
سوات میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے کہاکہ شہدا کے لواحقین اورزخمیوں کومعاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، معاوضوں کی ادائیگی کے لیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے گئے ہیں، تمام محکموں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بہترین کام کیا۔علی امین گنڈاپور نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہرممکن مدد کریں گے، گھر بناکردیں گے، بستیاں قائم کریں گے، ہم کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ کریں گے، کسی پر احسان نہیں کررہے،عوام کو ریلیف دینا ہمارا فرض ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے پاس وسائل موجود ہیں، مدد کے لیے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاں گا، متاثرہ علاقوں میں انفرااسٹرکچرکو فوری بحال کیاجائے گا، انہوں نے کہاکہ میں مدد لینے والوں میں سے نہیں، دینے والوں میں سے ہوں، وسائل موجود ہیں، کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاوں گا۔علی امین نے کہاکہ بونیرمیں پانی کے راستے میں قائم عمارتوں کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا۔
قبل ازیں وزیر اعلی خیبر پختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے سیلاب سے متاثرہ ضلع بونیر کا دورہ کیا اور ڈی سی آفس میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں کے بارے میں اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس میں سیلاب سے شہید ہونے والے افراد کو ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی، اجلاس کو بونیر میں سیلاب کی تباہ کاریوں،ریسکیو اور ریلیف و بحالی کی سرگرمیوں بارے بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا کہ بونیر کی 7 ویلج کونسلوں میں کلاڈ برسٹ سے مجموعی طور پر 5 ہزار 380 مکانات کو نقصان پہنچا، اب تک 209 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، 134 افراد لاپتہ ہیں جبکہ 159 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ضلع بونیر سمیت 8 متاثرہ اضلاع میں ریلیف ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے، بونیر میں لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، سیلاب میں پھنسے 3500 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع میں 10 ایکسکیویٹرز، 22 ٹریکٹرز، 10ڈی واٹرنگ پمپس، 5واٹربازرز اور 10ڈوزر کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کی سرگرمیوں انجام دی جارہی ہیں، ریلیف سرگرمیوں میں 223 ریسکیو اہلکار، 205 ڈاکٹرز، 260 پیرا میڈیکل اسٹاف اور 400 پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
اجلاس کو بتایا کہ سول ڈیفنس کے 300 رضاکار اور پاک فوج کی 3 بٹالین بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں، متاثرہ لوگوں کو خوراک،صحت سہولیات، ٹینٹس، کمبل میٹرس سمیت تمام ضروری اشیا فراہم کی جا رہی ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پیر بابا6 کلومیٹر روڈ،گوکند کا 3 اعشاریہ 5 کلومیٹر روڈ کلیئر کرلیا گیا جبکہ 15 مقامات پرلینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ بھی کلیئرکر لیا گیا ہے۔وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں صوبائی حکومت کے اداروں اور ضلعی انتظامیہ کا بروقت رسپانس قابل ستائش ہے، سول انتظامیہ اب ریلیف اور بحالی کے کاموں میں بھی اسی جذبے سے کام کرے، متاثرہ لوگوں کی بحالی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔وزیر اعلی نے کہاکہ سیلاب میں شہید ہونیوالوں کے لواحقین اور زخمیوں کو بلا تاخیر معاوضوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے، صوبائی حکومت نے اس مقصد کیلیے ڈیڑھ ارب روپے جاری کر دیے ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں رابطہ کرنے اور تعاون کی یقین دہانی پر وزیر اعظم اور تمام وزرائے اعلی کا مشکور ہوں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآرمی چیف کی خصوصی ہدایت کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی تقسیم جاری آرمی چیف کی خصوصی ہدایت کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں راشن کی تقسیم جاری افغان مہاجرین کی واپسی کی ڈیڈ لائن 31اگست، رجسٹریشن ختم کرنے کے انتظامات مکمل طوفانی بارشیں، بونیر میں شادی کی خوشیاں ماتم میں تبدیل، ایک ہی خاندان کے 21افراد جاں بحق کرپشن اور انسانی اسمگلنگ، سابق سرکاری افسر سمیت 2 ملزمان گرفتار بارشوں میں مزید شدت متوقع ہے،3 مزید سلسلے پاکستان کی جانب بڑھ رہے ہیں، این ڈی ایم اے حکام کی بریفنگ موت سے پہلے دو بار واش روم کا چکر‘: صحافی خاور حسین کی لاش ملنے سے قبل کیا ہوا؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور سیلاب متاثرین والوں میں سے گنڈاپور نے علاقوں میں سیلاب سے اجلاس کو نے کہاکہ کہ سیلاب کریں گے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔