امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کسی وقتی یا عارضی کیفیت کا نام نہیں بلکہ یہ ناگزیر، تزویراتی اور خطے کے امن و معاشی استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

ڈیلس کے دورے کے موقع پر جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کی قیادت یہ واضح کرچکی ہے کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے طویل المدتی شراکت داری قائم کی جائے گی اور یہ تعلقات محض ’رومانس‘ نہیں بلکہ ایک حقیقت ہیں جو مستقبل میں مزید گہرے ہوں گے۔

رضوان سعید شیخ نے کہا کہ پاکستان اور امریکا دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور اگلی دو سے ڈھائی دہائیوں میں یہ تیسرا بڑا ملک بن سکتا ہے، ایسے میں امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات کسی اختیار یا چوائس کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک لازمی حقیقت ہیں کیونکہ یہ خطے کے امن، عالمی ہم آہنگی اور دونوں ملکوں کے معاشی مفاد کے لیے ناگزیر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کی قیادت خود اس بات کا اظہار کرچکی ہے کہ وہ تجارت اور سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اسٹریٹجک پارٹنرشپ قائم کرنا چاہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ تعلقات وقتی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں تک دیرپا رہیں گے۔

خدا نے مجھے پاکستان کا محافظ بنایا ہے، اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے: فیلڈ مارشل عاصم منیر

سید عاصم منیر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خدا نے مجھے پاکستان کا محافظ بنایا ہے، اس کے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں ہے۔

اس سوال پر کہ اس تعلقات کے موجودہ ’رومانس‘ سے پاکستان کو کیا فائدہ ہو رہا ہے؟ رضوان سعید شیخ نے کہا کہ آج کی دنیا میں دو طرفہ تعلقات ہمیشہ قومی مفاد پر مبنی ہوتے ہیں۔ پاکستان کے لیے امریکا سب سے بڑی تجارتی منڈی ہے اور ہمیں جو ٹیرف ملا ہے وہ ان ملکوں کے مقابلے میں بہتر ہے جن کے ساتھ ہماری مسابقت ہے۔ یہ ایک بڑا موقع ہے جو سفارت کاری کے ذریعے پیدا کیا گیا ہے، اب اس موقع سے فائدہ نجی شعبے اور دیگر اداروں کو اٹھانا ہوگا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ امید ہے یہ تعلقات مستقبل میں ہماری آنے والی نسلوں تک ایک مستحکم بنیاد پر قائم رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ ٹیکسٹائل کا ہے جو ستر فیصد سے زیادہ بنتا ہے اور اس میں مزید اضافے کی گنجائش ہے۔ پاکستان اس وقت امریکی کپاس کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے جبکہ اب سویابین کی درآمد بھی شروع کر دی گئی ہے جس میں کافی وسعت ممکن ہے۔ مزید یہ کہ معدنیات اور توانائی کے شعبے میں تعاون پر بات ہو رہی ہے جو دونوں ملکوں کے لیے یکساں مفید ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نوجوانوں کا ملک ہے، جہاں 65 فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر ہے اور اوسط عمر تیس سال ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ نئی معیشت کے شعبوں جیسے آئی ٹی، آؤٹ سورسنگ اور کرپٹو میں بھی پاک امریکا تعلقات کو آگے بڑھایا جائے۔

مودی سرکار کو ایک اور دھچکا، امریکا نے بھارت سے تجارتی مذاکرات منسوخ کردیئے

واشنگٹن امریکا نے بھارت کے ساتھ اگست میں ہونے والے.

..

سفیر پاکستان نے انکشاف کیا کہ امریکی قیادت نے واضح طور پر کہا ہے کہ امریکا سرمایہ کاری صرف پاکستان میں کرے گا اور یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس کے تحت جلد عملی اقدامات متوقع ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کچھ امریکی کمپنیوں نے پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری اور جوائنٹ وینچرز میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور اسی تناظر میں آئندہ چند ماہ میں ٹیکساس میں پہلی پاک امریکا سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے جسے بعد میں دیگر امریکی ریاستوں تک پھیلایا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان کے حوالے سے کہ پاکستان میں تیل کے ذخائر دریافت ہو رہے ہیں، سفیر پاکستان نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں۔ یہ کوئی نئی دریافت نہیں بلکہ پرانے سروے سے ان کا علم تھا، تاہم نئے سائنسی سروے نے ان کی موجودگی کی مزید تصدیق کی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ سرمایہ کاری طلب اور مشکل شعبہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آف شور ڈرلنگ میں کامیابی کی شرح صرف دس فیصد ہوتی ہے یعنی اگر دس مقامات پر کوشش کی جائے تو صرف ایک پر کامیابی ملتی ہے۔ اس لیے پاکستان اپنے محدود وسائل کے ساتھ اس پر کام نہیں کر سکا، لیکن اگر امریکا اور دیگر ملک سرمایہ کاری کریں تو کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں گے اور پاکستان کے توانائی کے شعبے میں انقلاب آ سکتا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ امریکا کے دورے اور ٹیمپا میں خطاب کے بعد انڈین میڈیا کے واویلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سفیر پاکستان نے کہا کہ انڈین میڈیا کا ردعمل حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ خواہشات پر مبنی صحافت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران بھارتی میڈیا نے تو لاہور کی بندرگاہ فتح کرنے کی خبریں تک چلائی تھیں، لہٰذا اس سے زیادہ غیر سنجیدہ مثال اور کیا ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا کی ایسی رپورٹنگ دراصل ملیشیس نیت اور خواہشات پر مبنی ہے جسے دنیا کو اب سنجیدگی سے لینا یا نہ لینا خود طے کرنا ہوگا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ امریکی صدر ٹرمپ تقریباً چالیس مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے ایک کردار ادا کیا لیکن بھارتی ذرائع ابلاغ اور قیادت اس کو ماننے کو تیار نہیں۔ ان کے مطابق یہ بھارتی رویہ دنیا کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ رضوان سعید شیخ پاکستان میں سرمایہ کاری پاکستان کے کہ پاکستان نہیں بلکہ کے ساتھ ہے اور کے لیے

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین سینیٹ سے اٹالین سفیر کی غیر رسمی ملاقات ،دونوںملکوں کے تعلقات مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا