بھارت کی عالمی سطح پر ایک اور شکست، امریکا نے تجارتی مذاکرات منسوخ کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
واشنگٹن:
بھارت کو عالمی سطح پر ایک اور ہزیمت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا جب امریکا نے اگست میں ہونے والے تجارتی مذاکرات اچانک منسوخ کر دیے، امریکی وفد کا دورہ نئی دہلی اب نہیں ہوگا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے بھارتی میڈیا رپورٹس کے حوالے سے بتایا ہے کہ 25 سے 29 اگست تک امریکی تجارتی وفد کا دورہ طے تھا، جس میں دو طرفہ تجارتی معاہدے پر اہم پیش رفت ہونا تھی، تاہم واشنگٹن کی جانب سے دورہ آخری لمحات میں منسوخ کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ روس سے تیل کی خریداری پر امریکا اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی اس فیصلے کا سبب بنی۔
واشنگٹن نے نئی دہلی کو خبردار کیا تھا کہ روس سے تیل کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو سخت اقتصادی اقدامات کیے جائیں گے۔
یاد رہے کہ روس سے تیل خریدنے پر امریکا نے بھارت پر اضافی 25 فیصد ٹیرف لاگو کر دیا تھا، جس کے بعد مجموعی امریکی ٹیرف 50 فیصد تک جا پہنچا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ بھارت بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر روسی تیل درآمد کر رہا ہے، جو موجودہ عالمی پالیسیوں کے منافی ہے اس لیے اضافی ڈیوٹی ضروری اقدام ہے۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی وزیر خزانہ نے بھی خبردار کیا تھا کہ اگر سابق صدر ٹرمپ اور روسی صدر پیوٹن کے مذاکرات ناکام ہوئے تو بھارت پر مجموعی ٹیرف 50 فیصد سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔