بھارت چین سے نہیں بیٹھے گا، مقابلہ کرنے کیلئے ایشین ٹائیگر بننا پڑے گا: ایس ایم تنویر
اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT
کراچی :پیٹرن انچیف یونائیٹد بزنس گروپ ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ بھارت چین سے نہیں بیٹھے گا، مقابلہ کرنے کیلئے ایشین ٹائیگر بننا پڑے گا۔
شہر قائد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایس ایم تنویر کا کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں کمی ہوئی مزید کمی کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے، ہمارا ہدف بجلی کو 26 روپے یونٹ پر لانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تمام شعبوں میں ترقی کے وسیع مواقع موجود ہیں، حکومت کا برآمدات کا ٹارگٹ سو بلین ڈالر تک لے جانا ہے ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، ملکی ترقی کیلئے سخت مخنت کرنا ہوگی۔
پیٹرن انچیف یونائیٹد بزنس گروپ کا کہنا تھا کہ بیروزگاری اور مہنگائی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں،ہمارے پاس چار سے پانچ ٹریلین ڈالر کے قدرتی ذخائر موجود ہیں، پاکستان کا جی ڈی پی 412 بلین ڈالر ہے، جس طرح ہم چل رہے ہیں اِس سے گزارا نہیں ہوگا۔
ایس ایم تنویر نے کہا کہ جب آبادی چند کروڑ تھی تو ہمارے پاس چار صوبے تھے ، آج آبادی 25 کروڑ ہے تو بھی ہمارے پاس چار صوبے ہیں، ہمیں ہر ضلع اور ڈویژن میں کام کرنے کی ضرورت ہے وہاں کی معیشت کو منظم کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کو جو حصہ ملتا ہے وہ اسی طریقے سے نیچے نہیں جاتا، این ایف سی ایوارڈ میں وفاق کا حصہ 42 فیصد اور صوبوں کا 58 فیصد ہے، کوئی کمشنر کسی ڈویژن کی اورنر شپ نہیں لے سکتا، وہ چھ ماہ بعد ٹرانسفر ہو جاتا ہے۔
پیٹرن انچیف یونائیٹد بزنس گروپ نے کہا کہ بھارت کا مقابلہ کرنے کیلئے ایشین ٹائیگر بننا پڑے گا، بھارت چین سے نہیں بیٹھے گا، بھارت سے نمٹنے کیلئے معیشت کو مضبوط بنانا ہوگا، ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، ہمارا کام مسائل کی نشاندہی کرنا ہے۔
ایس ایم تنویر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ ہماری سرحد جڑی ہوئی ہے اُن سے تیل کیوں نہیں خریدا جاتا، ہمارا زرعی ملک دنیا بھر کے ممالک کی زراعت سے پیچھے ہے جب کہ امریکا کا پاکستان میں سرمایہ کاری کی بات کرنا خوش آئند ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔