جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ڈیفنس میں سرعام نوجوان پر تشدد کا مقدمہ پولیس رپورٹ پر ملزمان کیخلاف مقدمہ ختم کردیا۔

جوڈتیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ڈیفنس میں سرعام نوجوان پر تشدد کے مقدمے سے متعلق پولیس نے رپورٹ پیش کردی۔

پولیس رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ نوجوان دھیرج عرف دھن راج ملزموں کیخلاف کارروائی نہیں چاہٹا، نوجوان کا کہنا ہے مقدمہ غلط فہمی کی بنا پر قائم ہوا۔

متاثرہ نوجوان نے لکھ کر دیا ہے کہ سلمان فاروقی نے میرے یا میری بہن سے کوئی بدتمیزی نہیں کی، نوجوان نےحلف نامہ دیا کہ وہ مقدمہ نہیں چلانا چاہتا۔

مدعی کے حلفیہ بیان کے بعد جان سے مارنے کی دھمکی اور دیگر الزامات ختم کردئیے ہیں۔

تفتیشی افسر نے پہلے سی کلاس کی رپورٹ پیش کی اور مقدمے کا چالان پیش کیا، تفتیشی افسر نے کہا کہ تمام حقائق کی روشنی میں مقدمہ سی کلاس کرنے کی رپورٹ پیش کی ہے۔

عدالت نے پولیس رپورٹ پر ملزموں کیخلاف مقدمہ ختم کردیا۔ پولیس کے مطابق سلمان فاروقی اور اویس ہاشمی کیخلاف گذری تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پولیس رپورٹ

پڑھیں:

عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا

مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کا عشق پاکستانی نوجوان کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے پار لے گیا۔

پاکستان نے 30 اور 31 مئی کی درمیانی شب مقبوضہ بھارتی علاقے اُڑی پہنچنے والے پاکستانی نوجوان ذیشان میر کے لیے قونصلر رسائی کی درخواست دے دی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستانی ہائی کمیشن نئی دلی نے بھارتی وزارت خارجہ کو ذیشان میر کے بارے میں خط لکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کراچی: احسن آباد میں نجی نرسنگ انسٹیٹیوٹ سے لڑکی کی لاش برآمد
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں