Juraat:
2026-07-24@10:52:27 GMT

15 اگست، کشمیری سراپا احتجاج

اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT

15 اگست، کشمیری سراپا احتجاج

ریاض احمدچودھری

بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے مگر کوئی بھی بھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا نہیں۔ وہاں زندگی کی رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں اور صرف جنگل کا قانون نافذ ہے۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں جہاں اتنے سالوں سے جنگ ہو رہی ہو، قتل و غارت کا ہر وقت بازار گرم ہو وہاں زندگی کی رونقیں کس طرح قائم رہ سکتی ہیں۔
لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھرمیں کشمیریوں نے 15 اگست بھارتی یوم آزادی، یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ سرینگر اور وادی کے مختلف شہروں میں کشمیریوں کے احتجاج اور جلسے جلوسوں کو روکنے کیلئے بھارتی تعداد میں پولیس اور بھارتی فوج تعینات کی گئی تھی مگر سخت سکیورٹی کے باوجود وادی بھر میں کشمیری سڑکوں پر نکل آئے اور زبردست احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے بھارت اور ان کی کٹھ پتلی حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ آزاد کشمیر ، پاکستان اسلام آباد اور دیگر بڑے شہروں میں مقیم کشمیریوں نے جلسے، جلوس ریلیاں نکالی گئیں۔
مقررین نے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری، اقوام متحدہ دہرا معیار ختم کرے اور اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کروائے اور کشمیریوں کو ان کا حق حق خودارادیت دلانے کے لیے بھارت پر دبا بڑھائے۔ آج ریاست کے آرپار اور دنیا بھر میں آباد کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں اور بھارت کو باور کروا رہے ہیں کہ بھارت نام نہاد جمہوریت ہے۔ ہم اقوام عالم سے مطالبہ کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری مشرقی تیمور، بوسنیا اور سوڈان کے لوگوں کو حق دلانے کے لیے حرکت میں آجاتا ہے تو کشمیر کے معاملہ پر خاموش کیوں ہے۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔
پاکستانیوںنے 15 اگست بھارت کا یوم آزادی ، یوم سیاہ مناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر سے فوجی قبضہ ہٹانے تک بھارت کوآزادی کا جشن منانے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔ شہدا کی قربانیاں کسی بھی صورت میں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ کشمیری ظلم و جبر کی چکی میں پس رہے ہیں۔ 74 سال کا عرصہ بیت گیا مگر کشمیری ابھی تک غلام ہی ہیں۔ انگریزوں کے بعد ہندوؤں کے غلام۔ کشمیریوں پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے جو جمہوریت کا بڑادعویدار ہے۔ عام شہریوں کو اپنا پیدائشی حق ، آزادی مانگنے پر بے دریغ قتل کیا جا رہا ہے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کو کرنا ہے۔ بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے محروم کرناچاہتا ہے اور اسلامی مملک کی تنظیم مکمل یکجہتی سے کشمیری مسلمانوں کی تحریک آزادی کی حمایت کرے تو نہ صرف پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہوگی بلکہ دنیا بھر میں مسلمان جہاں جہاں بھی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں انہیں تقویت حاصل ہوگی اور بھارت کشمیری مجاہدین آزادی کو دہشت گرد قرار نہیں دے سکے گا۔
آج کے حالات میں بھارت نے کشمیر میں مظالم کا جو بازار گرم کر رکھا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ بھارتی افواج اب تک ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو شہید کر چکی ہیں۔ عفت مآب کشمیری خواتین کی اجتماعی آبروریزی کی جاتی ہے۔ گھروِں دکانوں پر ٹینک چڑھا دیئے جاتے ہیں۔ مساجد اور مزاروں کو شہید کر دیا جاتا ہے اور کھیتوں کوآگ لگا دی جاتی ہے۔ بھارتی فوج کے مظالم میں مزید تیزی آگئی ہے۔ بھارتی ایجنڈا ہے کہ کنٹرول لائن کے پار روابط بڑھائے جائیں تاکہ دنیا پر یہ ثابت کیا جا سکے کہ اصل مسئلہ کشمیریوں کے اتحاد کا ہے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا نہیں۔
مقبوضہ کشمیر میںڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ہزاروں کشمیری مائوں’ بہنوں و بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی اور دس ہزار سے زائد افراداس وقت بھی ایسے ہیں جنہیں گھروں اور تعلیمی اداروں سے زبردستی اٹھا لیا گیاجس کے بعد آج تک ان کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ مختلف شہروں و علاقوں میں کشمیریوں کی اجتماعی قبریں برآمد ہو رہی ہیں۔کشمیر جنت نظیر کا کوئی گھر ایسا دکھائی نہیں دیتا جس کا کوئی نہ کوئی فرد کسی نہ کسی حوالہ سے بھارتی دہشت گردی کا نشانہ نہ بنا ہو۔ کشمیریوں کی نسل کشی کا یہ عالم ہے کہ احتجاجی مظاہروں پر کھلے عام ممنوعہ ہتھیار استعمال کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی بینائی ضائع ہو چکی اور وہ زندگی بھر کیلئے معذور اور خطرناک بیماروںکا شکار ہو رہے ہیں مگر کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ بھارت میں اگر کسی کو عمر قید کی سزا ہوجائے تو وہ چودہ پندرہ برسوں بعد رہا ہو کر باہر آجاتا ہے مگر مقبوضہ کشمیر میں دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے ہندوستان نے ایسے ظالمانہ قوانین نافذ کر رکھے ہیں جن کی وجہ سے پوری کشمیری قوم کی زندگیاں اجیرن بن چکی ہیں۔فرضی جھڑپوں میں ملوث بھارتی فوجیوں کو تمغوں سے نوازا جارہا ہے اور اپنی عزتوں و حقوق کے تحفظ کیلئے آواز بلند کرنے والوں کو تاحیات عمر قید کی سزائیں سنا کر ہمیشہ کیلئے جیلوں میں ڈالا جا رہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: چکی ہیں رہے ہیں

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت