وزیراعظم سے شاہد آفریدی کی ملاقات، بنیان مرصوص کی کامیابی پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
وزیراعظم سے شاہد آفریدی کی ملاقات، بنیان مرصوص کی کامیابی پر مبارکباد WhatsAppFacebookTwitter 0 17 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف سے قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے ملاقات کی۔
وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ہونے والی اس ملاقات میں شاہد خان آفریدی نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر مسلح افواج کے کردار کو شاندار انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔
شاہد خان آفریدی نے کہا کہ اس نازک موقع پر پوری قوم نے متحد ہو کر بھرپور انداز میں دشمن کا منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم میاں شہباز شریف نے شاہد خان آفریدی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے قومی یکجہتی اور پاک افواج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے اور شاندار ریلی کے انعقاد پر مبارکباد بھی دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پاکستان کے اسٹار کرکٹر شاہد آفریدی کو شیلڈ بھی پیش کی، ملاقات کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ بھی موجود تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسی ڈی اے اور نسٹ کے درمیان میرٹ پر مبنی بھرتیوں کے لیے کمیوٹر بیسڈ امتحان کا آغاز ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کنول شوذب کا علیمہ خان سے آمنا سامنا، دلچسپ مکالمہ افواج پاکستان کی قیادت کی وجہ سے جوان بھارت کیخلاف حوصلے سے لڑے، وزیر دفاع اقوام متحدہ نے بھارت سے روہنگیا مسلمانوں سے انسانیت سوز سلوک پر جواب طلب کرلیا جی ایچ کیو حملہ اور 9 مئی مقدمات کی سماعت پھر ملتوی؛ ملزمان پر فرد جرم کی تاریخ مقرر چیئرمین سینیٹ پے پال افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے روم روانہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت جاری، بمباری سے مزید 250 فلسطینی شہیدCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: شاہد ا فریدی
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔