WE News:
2026-06-03@07:49:07 GMT

سابق امریکی صدر جو بائیڈن پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہوگئے

اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT

سابق امریکی صدر جو بائیڈن پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہوگئے

سابق امریکی صدر جو بائیڈن پروسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہوگئے ہیں، جو ڈاکٹروں کے مطابق ان کی ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔

جو بائیڈن کے دفتر سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں برس جنوری میں صدر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد گزشتہ جمعہ کو 88 سالہ سابق امریکی صدر میں پروسٹیٹ کینسر تشخیص کیا گیا، جب انہوں نے بعض شکایات کے ساتھ ڈاکٹرز سے مشورہ کیا۔

مذکورہ کینسر بیماری کی ایک زیادہ جارحانہ شکل ہے، جس کی خصوصیت گلیسن کے 10 میں سے 9 اسکور سے ہوتی ہے، اس کا مطلب ہے کہ ان کی بیماری کی ’اعلی درجے‘ کے طور پر درجہ بندی کی گئی ہے جس میں کینسر ریسرچ یو کے کے مطابق، کینسر کے خلیات تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا پاکستان سمیت 41 ممالک پر سفری پابندیاں عائد کرسکتا ہے، رپورٹ

بائیڈن اور ان کے اہل خانہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ علاج کے ضمن میں اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں، ان کے دفتر نے مزید کہا کہ کینسر ہارمون سے حساسیت رکھتا تھا، یعنی اس کا انتظام ممکن ہے۔

 بائیڈن کے دفتر کے مطابق پچھلے ہفتے، صدر جو بائیڈن کا طبی معائنہ پیشاب کی بڑھتی ہوئی علامات کا سامنا کرنے کے بعد کیا گیا جس میں پروسٹیٹ نوڈول کی نئی دریافت ریکارڈ کی گئی۔

’جمعہ کو، اس کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی، جس کی خصوصیت ہڈی میں میٹاسٹیسیس کے ساتھ گلیسن اسکور 9 تھی، اگرچہ یہ بیماری کی ایک زیادہ جارحانہ شکل کی نمائندگی کرتا ہے، کینسر ہارمون حساس ہوتا ہے جو مؤثر انتظام کی اجازت دیتا ہے۔‘

مزید پڑھیں:امریکا کا غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک چھوڑنے پر 1000 ڈالر دینے کا اعلان

کینسر کی تشخیص کی خبروں کے بریک ہونے کے بعد، سابق صدر جو بائیڈن کو امریکی سیاست کے دونوں دھاروں کی جانب سے حمایت حاصل ہوئی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ وہ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ جو بائیڈن کی حالیہ طبی تشخیص کے بارے میں سن کر افسردہ ہیں۔

انہوں نے سابق خاتون اول جِل بائیڈن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ جِل اور خاندان کے لیے اپنی پرتپاک اور نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ ’ہم جو کی تیز اور کامیاب صحت یابی کی خواہش کرتے ہیں۔‘

سابق نائب صدر کملا ہیرس، جنہوں نے جو بائیڈن کے ماتحت کام کیا، نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم  ایکس پر لکھا کہ وہ اور ان کے شوہر ڈگ ایمہوف بائیڈن کے خاندان کو اپنی دعاؤں میں رکھے ہوئے ہیں۔

Doug and I are saddened to learn of President Biden’s prostate cancer diagnosis.

We are keeping him, Dr. Biden, and their entire family in our hearts and prayers during this time. Joe is a fighter — and I know he will face this challenge with the same strength, resilience, and… pic.twitter.com/gG5nB0GMPp

— Kamala Harris (@KamalaHarris) May 18, 2025

’جو ایک فائٹر ہے، اور میں جانتی ہوں کہ وہ اس چیلنج کا مقابلہ اسی طاقت اور امید کے ساتھ کریں گے، جو ہمیشہ ان کی زندگی اور قیادت کی ذمہ دار رہی ہے۔

Michelle and I are thinking of the entire Biden family. Nobody has done more to find breakthrough treatments for cancer in all its forms than Joe, and I am certain he will fight this challenge with his trademark resolve and grace. We pray for a fast and full recovery.

— Barack Obama (@BarackObama) May 18, 2025

ایکس پر ایک پوسٹ میں، سابق امریکی صدر باراک اوبامانے، جن کے ساتھ جو بائیڈن نے 2009 سے 2017 تک بطور نائب صدر خدمات انجام دیں، کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ مشعل پورے بائیڈن خاندان کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

’کسی نے بھی کینسر کے لیے اس کی تمام شکلوں میں کامیاب علاج تلاش کرنے کے لیے جو بائیڈن سے زیادہ کام نہیں کیا، اور مجھے یقین ہے کہ وہ اپنے ٹریڈ مارک عزم اور فضل کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کریں گے، ہم جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

باراک اوبامہ پروسٹیٹ کینسر جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ سابق امریکی صدر کملا ہیرس

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: باراک اوبامہ پروسٹیٹ کینسر جو بائیڈن ڈونلڈ ٹرمپ سابق امریکی صدر کملا ہیرس سابق امریکی صدر پروسٹیٹ کینسر صدر جو بائیڈن بائیڈن کے کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  •   مٹی کا طوفان ، تیز بارش,2خواتین سمیت5 افراد جاں بحق
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان