جو بائیڈن کی زندگی کا سب سے بڑا چیلنج، پروسٹیٹ کینسر ہڈیوں تک پھیل گیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
واشنگٹن:
سابق امریکی صدر جو بائیڈن کو پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی ہے، جو ہڈیوں تک پھیل چکا ہے۔
ان کی عمر 82 سال ہے اور وہ اس وقت اپنے معالجین کے ساتھ علاج کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
جو بائیڈن کی آفس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جمعہ کے روز سابق صدر کو جارحانہ نوعیت کے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی۔
طبی رپورٹس کے مطابق اس بیماری کا پھیلاؤ ہڈیوں تک ہو چکا ہے، جس کے بعد بائیڈن اور ان کے اہل خانہ نے اپنے معالجین سے مشورہ کیا ہے تاکہ علاج کے مختلف آپشنز پر غور کیا جا سکے۔
پروسٹیٹ کینسر مردوں میں سب سے عام کینسر ہے، جو پروسٹیٹ گلینڈ میں پیدا ہوتا ہے۔ پروسٹیٹ ایک چھوٹا غدود ہے جو مردوں کے تولیدی نظام کا حصہ ہوتا ہے۔
جو بائیڈن کی صدارت کی مدت 20 جنوری کو ختم ہوئی تھی، اور اس وقت سابق صدر عوامی زندگی سے کسی حد تک الگ ہو چکے ہیں۔
تاہم ان کی صحت کے حوالے سے یہ نئی تشخیص ان کے مداحوں اور عالمی رہنماؤں کے لیے تشویش کا باعث بنی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پروسٹیٹ کینسر جو بائیڈن
پڑھیں:
کینیڈا کے کثیر القومی کلچر کو بھارتی ڈانس کلچر کی یلغار کا سامنا، سماجی ماہرین نے خبردار کر دیا
کینیڈا کا روایتی، پرامن اور کثیر القومی کلچر اس وقت بھارتی امیگریشن اور ڈانس کلچر کی بے ہنگم یلغار کی زد میں ہے، جس پر سماجی ماہرین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین شناخت کے مٹنے کا خطرہ ظاہر کر دیا ہے۔
Canada has turned into an Indian colony!!!!
Canadians are now a minority in Toronto and the flood of immigrants is larger than ever before.
We cannot let this happen to us. Wake up!!!! pic.twitter.com/TIxnzuLeS7
— Știrile Rezistenței ???????? ???????? (@RomaniaMare1918) June 2, 2026
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ’رومانیا ماره 1918‘ نامی اکاؤنٹ سمیت متعدد حلقوں کی جانب سے جاری کردہ حقائق کے مطابق کینیڈا غیر ملکی امیگریشن، بالخصوص بے لگام بھارتی آبادی کے بوجھ تلے دب کر تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ ٹورنٹو جیسے بڑے کینیڈین شہروں میں صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ وہاں کے اصل مقامی کینیڈین شہری اب اپنے ہی وطن میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں خالصتان ریفرنڈم کی تیاریاں مکمل
اس بے ہنگم ثقافتی یلغار اور بھارتیوں کی حد سے بڑھتی ہوئی تعداد کو ملک کے لیے ایک بھیانک سماجی و آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک شفٹ) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے کینیڈا کے امن کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کے لیے صرف بھارتی ثقافتی یلغار ہی دردِ سر نہیں، بلکہ کینیڈا میں مقیم بھارتی شہریوں اور سٹوڈنٹس کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ ہی ملک میں سنگین اسٹریٹ کرائمز، فراڈ، گینگ وار اور بدمعاشی کلچر میں ہولناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق کینیڈا کا پرامن معاشرہ اب بھارتی گینگز کی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار ہو چکا ہے۔
کینیڈا میں بسنے والے مظلوم سکھوں (خالصتان تحریک کے حامیوں) کے خلاف مودی سرکار کی ماورائے عدالت کارروائیوں اور ریاستی دہشت گردی نے کینیڈا کی خودمختاری پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ مودی حکومت کی شہ پر کینیڈین دھرتی پر سکھ رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور ان کے خلاف بھارتی ایجنسیوں کے خفیہ نیٹ ورک اور ہتھکنڈوں نے کینیڈا کے سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کینیڈا کی سرزمین پر بھارتی مداخلت اور سکھوں کے خلاف ان سفاکانہ کارروائیوں کے باعث ماضی میں کینیڈا اور بھارت کے سفارتی تعلقات شدید ترین پستی کا شکار ہوئے، سفارت کاروں کو ملک بدر کیا گیا اور دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایسی تلخی اور دوری پیدا ہوئی جو آج تک برقرار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کینیڈین حکومت نے بھارتی یلغار، جرائم اور نئی دہلی کی ریاستی غنڈہ گردی کے خلاف اب بھی سخت ایکشن نہ لیا تو کینیڈا کی قومی شناخت اور امن ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت بھارتی کلچر ٹورنٹو کینیڈا