سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کا اہم ویڈیو بیان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما احسان ایڈووکیٹ اور ان کے تمام ساتھیوں کی گرفتاری اور غداری جیسے نہایت بیہودہ الزامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، در حقیقت قومی جرگہ کا سُن کر حکومت اور اس حکومت کے ہینڈلرز حواس باختہ ہوئے ہیں متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ پوری قوم کو اب منرلز بل کیخلاف متحد ہونا پڑے گا۔ انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ میں عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما احسان ایڈووکیٹ اور ان کے تمام ساتھیوں کی گرفتاری اور غداری جیسے نہایت بیہودہ الزامات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، در حقیقت قومی جرگہ کا سُن کر حکومت اور اس حکومت کے ہینڈلرز حواس باختہ ہوئے ہیں، پوری گلگت بلتستان کی قوم کو اب منرلز بل کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔