فتنۃ الخوارج اور بلوچ دہشت گردوں کا سرپرست بھارت ہے، جنرل احمد شریف چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت نے منطقی پیشکش کو رد کر دیا اور یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے ہماری مساجد پر میزائل داغے، بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شہید کیا، بھارتی حملوں میں 40 شہری شہید ہوئے جن میں 22 خواتین اور بچے شامل تھے۔ اسلام ٹائمز۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ لیفٹینٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ پاک بھارت تناؤ کو سمجھنے کے لیے اس کے پس منظر میں جانا ضروری ہے، بھارت اس خطے بالخصوص پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، بھارت حقیقت چھپانے کے لیے جھوٹے بیانیے کے پیچھے چھپ رہا ہے۔ روسی خبر رساں ادارے آر ٹی عریبیہ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پہلگام واقعے کے چند منٹ بعد ہی بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ 2 دن قبل بھارتی ترجمانِ دفتر خارجہ سے پوچھا گیا کہ واقعے میں کون ملوث ہے تو ان کا جواب ریکارڈ پر موجود ہے کہ تفتیش ابھی جاری ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے سوال کیا کہ بغیر تفتیش اور شواہد کے الزامات لگانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ حکومتِ پاکستان نے واضح موقف اپنایا کہ کوئی ثبوت ہے، تو اسے کسی غیر جانبدار ادارے کو دیا جائے، ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے اس منطقی پیشکش کو رد کر دیا اور یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے ہماری مساجد پر میزائل داغے، بچوں، خواتین اور بزرگوں کو شہید کیا، بھارتی حملوں میں 40 شہری شہید ہوئے جن میں 22 خواتین اور بچے شامل تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ رویہ کہ ، بھارت خود منصف، جج اور جلاد بن جائے، یہی اصل مسئلہ ہے جبکہ معاملے کی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کا اصل سرپرست بھارت ہے، چاہے وہ دہشت گردی فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھتی ہو یا بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ ہوں سے، یہی ان کا متکبرانہ رویہ ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ جہاں تک افواجِ پاکستان کا تعلق ہے، ہمیں جو مقدس ذمہ داری سونپی گئی ہے، وہ ملک کی خودمختاری اور سرحدوں کا تحفظ ہے، ہم نے یہ ذمہ داری پوری کی، اور ہر قیمت پر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انتہائی بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے فوری، سخت اور مؤثر جواب دیا جس سے دشمن کو حقیقت کا سامنا کرنا پڑا، 6 اور 7 مئی کی رات کو بھارت نے حملہ کیا، میزائل فائر کیے، جس کے بعد ہماری انتہائی پیشہ ور فضائیہ نے ان کے 5 طیارے مار گرائے جو شہریوں پر خوفناک حملوں میں ملوث تھے اور ان کے درجنوں ڈرونز تباہ کیے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہماری آخری گنتی کے مطابق 84 ڈرونز تھے لیکن اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بہت سے شہریوں نے یہ ڈرونز جنگی ٹرافی کے طور پر اپنے پاس رکھ لیے کیونکہ قوم اس ننگی جارحیت کے خلاف باہم جڑ گئی تھی جبکہ قوم اور افواجِ پاکستان ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہو گئیں۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے ہمیں ڈرانے کے لیے 9 اور 10 مئی کی شب مزید میزائل داغے، مگر بھارتی یہ بھول گئے کہ پاکستان کی قوم، اس کی افواج نہ کبھی جھکتی ہیں، نہ جھکائی جا سکتی ہیں، 10 مئی کی صبح ہم نے نپا تلا جواب دیا، نہایت ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ صرف ان کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، کسی ایک بھی شہری ہدف کو نقصان نہیں پہنچایا یہ ایک مناسب، منصفانہ اور متوازن جواب تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارتی وزارتِ دفاع کے ترجمان نے خود آ کر جنگ بندی کی درخواست کی، ہم امن اور استحکام کے خواہاں ہیں، تو ہم نے کہا کہ کیوں نہیں؟ ہم پرتشدد قوم نہیں، ہم ایک سنجیدہ قوم ہیں، امریکا جیسی بڑی طاقتیں بہتر سمجھتی ہیں کہ پاکستان کے عوام کا جذبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈی جی آئی ایس پی آر نے جنرل احمد شریف خواتین اور کہ پاکستان نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات،وزیر اعظم نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا
وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اس منصوبے سے ملک میں زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور تربیت کو ان منصوبوں کا حصہ بنایا جائے۔
جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے پر بات چیت کی جارہی ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں
ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار