Express News:
2026-06-03@06:19:01 GMT

اطلاعاتی نظام اور جنگ

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ میں اطلاعاتی نظام کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے میں نے ذاتی طور پر گلف وار، صومالیہ سول وار اور امریکا عراق جنگ کی میدان جنگ سے براہ راست رپورٹنگ کی ہے اور بخوبی آگاہ ہوں کہ جنگ کے دوران حقائق کو کیسے ہینڈؒل کیا جاتا ہے۔ پاک بھارت حالیہ چار روزہ جنگ میں میڈیا کے کردار کے حوالے سے تجزیات سامنے آرہے ہیں۔

اس حوالے سے میرے ایک دوست نے ایک ایسی تحریر مجھے ارسال کی ہے جو بھارتی میڈیا کے کردار کو کھل کر نمایاں کرتی ہے۔ یہ تحریر ایک ایسے فرد نے لکھی ہے جو بھارت میں مقامی چینلز کے ساتھ دہائیوں سے کام کر رہا ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ میڈیا کی دو دھاری تلوار نے اس بار بھارت کو ہی کاٹ کر رکھ دیا۔ صاحب مضمون لکھتے ہیں کہ ’’میں پچھے تیس برس سے بھارت میں میڈیا کا حصہ رہا ہوں۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارتی ٹی وی اسکرینوں اور میڈیا ویب سائٹس نے اس جنگ کے دوران قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر سفید جھوٹ کے جو دریا بہائے اس سے ہمارے سر شرم سے جھک گئے ہیں، اب اس میڈیا کے ساتھ وابستگی کا حوالہ دینا ہی سبکی جیسا لگتا ہے۔حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران جب بھارتی ٹی وی کے اینکرز چیخ چیخ کر بتا رہے تھے کہ کراچی کو تباہ کر دیا گیا ہے تو میں نے پہلے کچھ زیادہ سیریس نہیں لیا مگر جب ایک معروف بھارتی خاتون ٹی وی اینکر جس کو پاکستان کے مخصوص صحافتی حلقوں میں معتبر صحافی کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، نے بھی ٹوئٹ کرکے یہی خبر دی تو میں نے اپنے ایک سابق کولیگ، جو اب کراچی شفٹ ہوگئے ہیں، کو فون کیا۔

وہ فون اٹھا نہیں رہے تھے تو یقین آگیا کہ شاید کراچی واقعی ختم ہو گیا ہے مگر چند ساعت کے بعد ان کا خود ہی فون آیا اور معذرت کی کہ وہ اس وقت نہاری لینے کے لیے ایک ریسٹورنٹ کے باہر قطار میں کھڑے ہیں۔ میں نے پھر ہندوستانی میڈیا کی چند ہیڈلائنز دیکھیں۔ جس میں نیوز اینکرز گلہ پھاڑ کر بتا رہے تھے کہ کراچی اور اسلام آباد پر حملے کی خبریں دے رہے تھے۔ جس وقت یہ خبر چلائی گئی تو پینل پر موجود خود ساختہ جوکرتجزیہ نگار خوشی سے ڈانس کرنے لگے۔ ایک اور مشہور بھارتی نجی ٹی وی نے تو حد ہی کر دی۔

کراچی پورٹ پر فرضی حملے کی وڈیو اسٹوڈیو میں ہی تیار کر کے ایسے نشر کی جیسے یہ حقیقی مناظر ہوں۔ بھارت کے انگریزی چینل نے لاہور اور کراچی پر بیک وقت حملے کا دعویٰ کر دیا۔ایک اور بھارتی ٹی وی چینل نے یہ دعویٰ کر ڈالا کہ پاکستان کے 25 شہر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ غلط انفارمیشنز کے علاوہ ٹی وی اینکرز کی گندی زبان اور گالی گلوچ نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ بھارتی نیوز میڈیا کا یہ پروپیگنڈا کوئی انٹرنیٹ ٹرولنگ نہیں بلکہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ پھیلارہے تھے۔ 

بھارتی حکومت کی طرف سے بھی ’’کارگل جنگ‘‘ کے برعکس اس با ر دہلی میں کوئی تفصیلی بریفنگ نہیں دی گئی۔ جونیئر افسران کرنل صوفیہ قریشی اور ونگ کمانڈر ویمکا سنگھ کو میڈیا کو بریفنگ کی ذمے داری دی گئی۔ اس کے برعکس پاکستان نے ایئر فورس کے سینئر افسر، ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد کو میڈیا کے سامنے پیش کیا جنھوں نے نقشے کے ذریعے ایک تفصیلی بریفنگ دی۔

پاکستانی بریفنگ کا انداز انتہائی پروفیشنل تھا۔ انھوں نے صبر و تحمل سے بتایا کہ آپریشن سندور کے آغاز سے قبل ہی پاکستانی فضائیہ نے الیکٹرانک طریقے سے ہندوستانی طیاروں کی شناخت کرلی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فضائی حکمت عملی اب روایتی فضائی جھڑپوں تک محدود نہیں بلکہ اب وہ ایک ’’کثیر الجہتی جنگی حکمت عملی‘‘ پر مبنی ہے۔ یہ بات سب ہی صحافی جانتے ہیں کہ جب تفصیل سے بریفنگ دی جائے تو میڈیا بھی اسی بیانیے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔

پاکستان نے چونکہ سینئر افسران کو میدان میں اتارا، اس لیے گزشتہ روز بین الاقوامی اخبارات اور ٹیلی وژن چینلوں پر پاکستانی مؤقف چھایا رہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ہندوستان کی طرف سے کسی سینئر آرمی اورفضائی افسر نے میڈیا سے بات نہیں کی۔ جب اس غلطی کا اندازہ ہوگیا، تب تک دیر ہو چکی تھی۔ اس ابلاغی حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ بین الاقوامی میڈیا کو پاکستانی مؤقف کا اعتبار حاصل ہوا۔

وقت کا تقاضا ہے کہ تعلیمی اداروں میں صحافتی تعلیم کے مضامین ہوں یا ابلاغی اداروں میں تربیتی ورکشاپس، صحافیوں کو ’’گلوبل ولیج‘‘ کے اس دور میں کنفلکٹ رپورٹنگ (Conflict Reporting)، ڈزاسٹر رپورٹنگ( Desister Reporting) اور وار رپورٹنگ (War Reporting) کی تعلیم اور تربیت کا خصوصی اہتمام کیا جائے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میڈیا کے کے ساتھ رہے تھے

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے