Express News:
2026-06-03@04:03:26 GMT

موبائل اور ذہنی صلاحیتوں میں خلل

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

ڈیجیٹل نفسیات (Digital Psychology) نفسیات کی وہ شاخ ہے جو انسانی رویے، خیالات اور احساسات پر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خصوصاً انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے اثرات کا مطالعہ کرتی ہے۔ موجودہ دور میں انسان کی ایک بڑی نفسیاتی دنیا اسکرینز کے پیچھے بستی ہے، جس نے نہ صرف ہمارے میل جول کے طریقے بدلے بلکہ ہماری شناخت، ذہنی صحت اور ذاتی سمجھ پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

 سوشل میڈیا انسان کی جذباتی، سماجی اور ذہنی کیفیت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ فیس بک، ٹوئٹر، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسے پلیٹ فارمز نے اظہار کے دروازے کھولے، لیکن ساتھ ہی خود اعتمادی کی کمی جیسے مسائل کو جنم دیا یا fear of missing out (سوشل میڈیا پر جو مواقعے دوسرے حاصل کر رہے ہیں آپ نہیں کر پا رہے۔) جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ہر کوئی ایک جیسی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔

 American Psychological Association (APA) کے مطابق، نوجوان صارفین میں سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ڈپریشن اور اینگزائٹی کی بلند سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، جو افراد روزانہ دو گھنٹے سے زیادہ سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، ان میں ذہنی دباؤ کے امکانات دوگنا زیادہ ہوتے ہیں مثلاً، انسٹاگرام پر دوسروں کی خوشیوں سے بھری تصویریں دیکھ کر اکثر نوجوانوں کو لگتا ہے کہ وہ پیچھے رہ گئے ہیں، جس سے ان میں احساس کمتری، تنہائی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے۔

انسانی ذہن صدیوں سے ترقی کرتا آ رہا ہے۔ موجودہ دور کو ہم ’’ ڈیجیٹل عہد‘‘ کہہ سکتے ہیں، جس میں موبائل فون ہماری زندگی کا مرکزی حصہ بن چکے ہیں۔ معلومات تک فوری رسائی، رابطے کی آسانی اور تفریح کے بے شمار ذرایع یہ سب موبائل فون کی نمایاں خصوصیات ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہولیات ہماری ذہنی صلاحیتوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں؟ اور کس طرح انسان کی کگنیٹو اسکلز (Cognitive Skills) متاثر ہو رہی ہیں۔

موبائل فون ایک جدید مواصلاتی آلہ ہے جو صرف کالز اور پیغامات تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک کمپیوٹر، کیمرا، کیلنڈر، گیم سینٹر، تعلیمی پلیٹ فارم اور سوشل میڈیا حب بن چکا ہے۔ موبائل کی بنیادی خصوصیات میں، رابطے کی سہولت، معلومات کی دستیابی، گوگل، وکی پیڈیا اور دیگر ایپس کے ذریعے معلومات تک فوری رسائی، ویڈیوز،گیمز، سوشل میڈیا ایپس جیسے TikTok، Instagram اور YouTube وغیرہ شامل ہیں۔

علاوہ ازیں کاروباری مواقعے ای میل، ای کامرس، آن لائن بینکنگ اور فری لانسنگ کے ذرایع بھی دستیاب ہیں۔مگر جہاں سہولیات بڑھتی ہیں، وہیں خطرات اور نقصانات بھی جنم لیتے ہیں۔ جیسے توجہ میں خلل کی صورت، مسلسل نوٹیفکیشنز ذہن کو منتشر کردیتے ہیں۔ نیند کی خرابی جس کی وجہ سے اسکرین کی نیلی روشنی نیند کے ہارمون، میلٹونن، کی پیداوار میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ذہنی دباؤ اور اضطراب بڑھ رہا ہے اور سوشل میڈیا کے مسلسل موازنے سے انسان خود کو کمتر محسوس کرنے لگتا ہے۔

 تعلیمی کارکردگی پر واضح اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ طلباء کا دھیان پڑھائی سے ہٹ کر موبائل پر زیادہ ہوتا ہے۔جب ہم بات کرتے ہیں کگنیٹو اسکلز کی تو یہ وہ ذہنی صلاحیتیں ہیں جن کی مدد سے انسان سیکھتا، سوچتا، فیصلہ کرتا، یاد رکھتا اور مسائل حل کرتا ہے۔ ان صلاحیتوں میں شامل ہیں۔

یادداشت (Memory) ، توجہ (Attention) مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت (Problem Solving)، فیصلہ سازی (Decision Making)منطقی سوچ (Reasoning) زبان اور تفہیم (Language & Comprehension) یہ تمام صلاحیتیں کسی بھی انسان کی ذاتی، پیشہ ورانہ اور سماجی زندگی کی کامیابی کے لیے نہایت اہم ہیں۔

موبائل پر بار بار توجہ دینے سے دماغ کی گہری توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ اس عمل کو ''Attention Residue'' کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے ایک کام سے دوسرے کام میں فوری تبدیلی دماغی صلاحیت پر اثر ڈالتی ہے۔یاد داشت کی کمزوری، جب ہر چیز موبائل میں محفوظ ہو، تو دماغ کی یاد رکھنے کی عادت کمزور پڑنے لگتی ہے۔

 اسے ''Digital Amnesia'' کہا جاتا ہے۔تجزیاتی سوچ کی کمی۔ مسلسل ویڈیوز دیکھنے یا گیمز کھیلنے سے انسان کی تخلیقی اور منطقی سوچ متاثر ہوتی ہے۔فیصلہ سازی میں تاخیر: موبائل پر موجود معلومات کا سیلاب ذہن کو الجھا دیتا ہے، جس سے فوری اور درست فیصلے لینا مشکل ہو جاتا ہے۔

نیند کی خرابی اور ذہنی دھند : موبائل کے مسلسل استعمال سے نیند متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں اگلے دن ذہنی تھکاوٹ، سست روی اور سوچنے سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔سوشل میڈیا دماغ کے ان حصوں کو متحرک کرتے ہیں جو فوری خوشی (dopamine) چاہتے ہیں۔ اس سے دماغ طویل عرصے کی منصوبہ بندی کی عادت سے دور ہوتا ہے۔

چھوٹی عمر میں موبائل کا مسلسل استعمال بچوں میں سیکھنے اور سماجی مہارتوں میں کمی پیدا کرتا ہے۔موبائل فون اگرچہ جدید دور کا ایک اہم ذریعہ ابلاغ ہے، مگر اس کے حد سے زیادہ استعمال نے انسانوں کے درمیان براہِ راست تعلقات کو متاثرکیا ہے۔ ماضی میں دوستوں اور رشتے داروں سے بالمشافہ ملاقات، باہمی گفتگو اور جذبات کا تبادلہ عام تھا، مگر آج کے دور میں لوگ ایک ہی کمرے میں بیٹھے رہنے کے باوجود موبائل کی اسکرین میں گم ہوتے ہیں۔

اس طرح نہ صرف دوستی کی گرم جوشی ماند پڑگئی ہے بلکہ خاندانی رشتے بھی وقت کی کمی اور جذباتی لاتعلقی کا شکار ہوگئے ہیں۔ موبائل کے استعمال میں توازن رکھا جائے تاکہ تعلقات کی اصل روح برقرار رہے۔موبائل فون کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ہماری روزمرہ کی زندگی کو محدود کر دیا ہے۔ خاص طور پر نوجوان اور بچے گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کر اسکرین پر وقت گزارتے ہیں جس کے نتیجے میں جسمانی سرگرمی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔

مسلسل بیٹھے رہنے اور جسمانی تحرک کی کمی کی وجہ سے صحت متاثر ہوتی ہے۔ دوسری جانب، گھر یا کمرے تک محدود رہنے سے ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ انسان جب فطرت، ہوا، روشنی اور کھلی جگہوں سے دور ہو جاتا ہے تو بے چینی، تناؤ اور اُداسی اس پر حاوی ہونے لگتی ہے۔ باہرکی سرگرمیاں، مثلاً کھیل کود، چہل قدمی یا کسی پارک میں وقت گزارنا، نہ صرف جسمانی صحت کو بہتر بناتی ہیں بلکہ دماغی سکون، تخلیقی سوچ اور مثبت رویے کو بھی فروغ دیتی ہیں۔

موبائل ایک شاندار ایجاد ہے، مگر اس کا بے جا استعمال ہماری ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے۔ جہاں یہ زندگی کو آسان بناتا ہے، وہیں یہ توجہ، یاد داشت، اور فیصلہ سازی جیسے بنیادی دماغی کارکردگی کو کم کر دیتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم شعوری طور پر موبائل کے استعمال میں توازن پیدا کریں تاکہ ہم اپنی کگنیٹو اسکلز کو محفوظ اور مؤثر بنا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: متاثر ہوتی ہے سوشل میڈیا موبائل فون انسان کی متاثر ہو ہوتا ہے کی کمی

پڑھیں:

شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔

کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔

دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔

پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔

شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل