یہ اسٹیٹس شاید وقتی طور پر تسلی دے دے، لیکن حقیقت میں نہ تو یہ فیس بک، انسٹاگرام یا کسی بھی پلیٹ فارم پر کوئی اثر ڈال سکتا ہے، اور نہ ہی آپ کی پرائیویسی کو کوئی قانونی تحفظ دیتا ہے۔
اگر آپ واقعی اپنی آن لائن زندگی کو محفوظ بنانا چاہتے ہیں، تو بس اسٹیٹس لگانے سے آگے بڑھیں اور یہ آسان مگر مؤثر اقدامات اختیار کریں:
  ذاتی معلومات کم سے کم شیئر کریں 
اپنا موبائل نمبر، گھر کا پتہ، یا لوکیشن پبلک پوسٹس پر کبھی مت ڈالیں۔
گھر والوں کی معلومات یا تصاویر صرف قریبی دوستوں تک محدود رکھیں۔
پرائیویسی سیٹنگز میں Friends Only یا مخصوص فہرستوں کا استعمال کریں۔
  تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے وقت محتاط رہیں
پوسٹ کرنے سے پہلے سوچیں: کیا یہ تصویر مستقبل میں میرے لیے مسئلہ بن سکتی ہے؟
بچوں کی تصاویر کو پبلک نہ کریں۔
صرف انہی لوگوں سے میڈیا شیئر کریں جن پر مکمل اعتماد ہو۔
ایپس کو غیر ضروری رسائی نہ دیں
ہر ایپ کو کیمرہ، مائیک یا لوکیشن کی رسائی دینا ضروری نہیں ہوتا۔
اجازت دیتے وقت کا انتخاب کریں۔
بعد میں جا کر سیٹنگز سے اضافی رسائی بند کر دیں۔
مشکوک تھرڈ پارٹی ایپس سے بچیں
سستے کوئز، مفت گیمز، اور “جانیں آپ کی شخصیت کیا ہے؟ جیسی ایپس اکثر پرائیویسی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
انسٹال کرنے سے پہلے ان کی ریٹنگ، ریویوز اور پرمیشنز ضرور چیک کریں۔
اکاؤنٹ کی سکیورٹی کو ترجیح دیں
Two-Factor Authentication ہر سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر آن کریں۔
مضبوط پاس ورڈ بنائیں: حروف، اعداد اور علامات کا استعمال کریں۔
ہر تین سے چھ ماہ بعد پاس ورڈ تبدیل کریں، اور ایک ہی پاس ورڈ کو ہر جگہ مت استعمال کریں۔
 حساس گفتگو پبلک میں مت کریں
نجی باتوں کے لیے End-to-End Encrypted  میسجنگ ایپس استعمال کریں جیسے Signal یا WhatsApp۔
پبلک پوسٹس یا کمنٹس میں ذاتی منصوبے یا خیالات نہ لکھیں۔
پرائیویسی سیٹنگز کا باقاعدہ جائزہ لیں
ہر چند ماہ بعد اپنے اکاؤنٹس کی پرائیویسی سیٹنگز چیک کریں۔
پرانی یا غیر ضروری پوسٹس، تصاویر اور ٹیگز کو ہٹا دیں۔
 اپنی آن لائن شناخت پر نظر رکھیں
آپ کی پوسٹس کو صرف دوست ہی نہیں، بلکہ ادارے، ویزہ افسر، نوکری دینے والے، اور یہاں تک کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
وہی مواد اپلوڈ کریں جس کی ذمہ داری آپ خوشی سے اٹھا سکیں۔
پرائیویسی اسٹیٹس لگانے سے نہیں، ہوشیاری سے بچانے سے قائم رہتی ہے۔
انٹرنیٹ پر ایک بار جو پوسٹ ہو جائے، وہ برسوں بلکہ نسلوں تک رہ سکتی ہے۔
اگر چاہیں تو میں اسے انفوگرافک یا سوشل میڈیا پوسٹ کے فارمیٹ میں بھی تیار کر سکتا ہوں۔

Post Views: 7

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت