سپریم کورٹ کے 26 اکتوبر 2024 سے 12 اگست 2025 تک کے سرکلرز اور احکامات پبلک کردیے گئے جن کے مطابق عدالت عظمیٰ میں قبل از وقت سماعت کی نئی پالیسی 22 فروری 2025 سے نافذ ہوگئی جس کے تحت ضمانت، فیملی اور انتخابی معاملات کو ترجیح دی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے 9 جنوری 2025 کو سابق ججز کے انتقال پر نئی پالیسی جاری کی گئی، نئی پالیسی مطابق سپریم کورٹ کا ایک فوکل پرسن مرحوم جج کی تدفین کے انتظامات میں مدد کرے گا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ججز کی جانب سے سابق جج کے مزار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائے گا۔

قبل از وقت سماعت کی نئی پالیسی 22 فروری 2025 سے نافذ ہوگئی، نئی پالیسی مطابق ضمانت، فیملی اور انتخابی معاملات کو ترجیح دی جائے گی، فوری نوعیت کے معاملات میں اب وکلاء کو قبل از وقت سماعت کی درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی، دوسرے کیسز کے لیے فوری درخواست کے ساتھ ٹھوس وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔

سپریم کورٹ کے 6 مارچ، 2025 حکم نامہ میں سرکاری گاڑیوں کے نجی استعمال پر فی کلومیٹر چارجز میں اضافہ کیا گیا۔

سپریم کورٹ میں موٹر سائیکل کا فی کلومیٹر کرایہ 6 روپے سے بڑھ کر 9 روپے ہوگیا، کار اور جیپ کا فی کلومیٹر کرایہ 12 روپے سے بڑھا کر 18 روپے کر دیا گیا، وین اور اسٹیشن ویگن کا کرایہ 16 روپے فی کلومیٹر سے بڑھ کر 24 روپے ہوگیا۔

ایئر کنڈیشنڈ کوسٹر کا فی کلومیٹر چارج 48 روپے سے بڑھ کر 72 روپے، جبکہ نان ایئر کنڈیشنڈ کا 32 روپے سے 48 روپے ہوگیا

سپریم کورٹ نے 17 مئی 2025 کو نئی پرچیز اینڈ مینٹیننس کمیٹی تشکیل دی، پرچیز اینڈ مینٹیننس کمیٹی سپریم کورٹ کی عمارتوں اور ججز کی رہائش گاہوں کی دیکھ بھال کے فرائض سر انجام دیگی۔

یہ کمیٹی عمارتوں کی دیکھ بھال سے متعلق چھوٹے کاموں اور ان کے اخراجات کا تخمینہ لگائے گی۔

نئی 'پرچیز اینڈ مینٹیننس کمیٹی' کو سپریم کورٹ کی عمارتوں اور گیسٹ ہاؤسز کی مرمت پر 500,000 روپے تک کے کاموں کی سفارش کا اختیار دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے 19 مئی، 2025 کو فیصلے اپ لوڈ کرنے کی پالیسی بدل دی، سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب اقلیتی فیصلہ بھی اکثریتی فیصلے کے ساتھ ویب سائٹ پر شائع کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ  19 مئی، 2025 کی پالیسی میں ڈے کیئر سینٹر کے لیے سخت ایس او پیز جاری کی گئی، پالیسی کے تحت سپریم کورٹ دے کیئر سنٹر میں صرف 4 سال تک کی عمر کے بچوں کو داخلہ ملے گا۔

سپریم کورٹ 22 مئی، 2025 حکم نامے میں یونیورسٹیوں کے وفود کے لیے نئے قواعد نافذ کیے گئے، نئے قواعد مطابق صرف فائنل یا دوسرے آخری سال کے طلباء کو اجازت ہوگی۔

سپریم کورٹ کا وزٹ کرنے والے تمام طلبا کو ایک مخصوص ڈریس کوڈ کی پابندی کرنی پڑے گی۔

سپریم کورٹ کے 7 جولائی، 2025 حکم نامے میں نئی ایس او پیز جاری کی گئیں، ججز کے لیے پروٹوکول خدمات میں اضافہ کیا گیا۔

پروٹوکول عملے کو 24/7 دستیاب رہنے اور چوکسی کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت کی گئی، سپریم کورٹ ججز کو طبی کلینکس اور کلبوں کی رکنیت حاصل کرنے میں مدد دی جائے گی۔

ججز اور ان کے خاندانوں کے لیے سفر، رہائش اور نقل و حمل کیلئے بہترین انتظامات کیے جائیں گے،  نئے ایس او پیز کے تحت ججز کو ضروری دستاویزی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی، ججز کے نادرا، پاسپورٹ اور سی ڈی اے سے متعلق کام ترجیح بنیادوں پر ہونگے۔

سپریم کورٹ کے 7 جولائی، 2025 حکم نامے میں گیسٹ ہاؤسز کی ریزرویشن کے لیے نئی پالیسی جاری کی گئی، نئی پالیسی میں ججوں اور ان کے خاندانوں کو رہائش میں ترجیح دی جائے گی۔

نجی لوگوں کے دوروں کے لیے قیام کی مدت کو چار دن تک محدود کر دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے 17 جون، 2025 کے اعلامیہ میں گاڑیوں کے استعمال کے لیے نئی پالیسی نافذکردی گئی، ہر جج کو 1800cc تک کی دو سرکاری گاڑیوں کا اختیار ہوگا، دونوں گاڑیوں کی دیکھ بھال، بشمول ایندھن، حکومت کے اخراجات پر ہوگی۔

ہر جج دو ڈرائیوروں کا حقدار ہوگا، ججز فوری ضرورت کی صورت میں تیسری گاڑی بھی حاصل کرسکیں گے، جو رجسٹرار کی منظوری سے ملے گی۔

ہر جج کو ایک سیکیورٹی (اسکارٹ) گاڑی اور ایک تربیت یافتہ گن مین بھی فراہم کیا جائے گا، جو اسلام آباد یا صوبائی پولیس کی جانب سے ہوگا۔

سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ ججز کے لیے بھی گاڑیوں کی نئی پالیسی جاری کر دی، ریٹائرمنٹ کے بعد ہر ریٹائرڈ جج ایک ماہ تک اپنی پرائمری کار اپنے پاس رکھ سکے گا، ریٹائرمنٹ کے بعد جج اپنی استعمال شدہ گاڑی کو کم قیمت پر خرید سکے گا۔

ریٹائرڈ ججوں کو ہوائی اڈے پر پک اپ اور ڈراپ کی اعزازی سہولت بھی ملے گی، اگر ریٹائرڈ جج نے پہلے پرائمری کار نہیں خریدی تو وہ ریٹائرمنٹ پر فرسودہ قیمت پر ایک نئی پرائمری کار خرید سکتا ہے۔

ریٹائرڈ ججز اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومتوں میں دستیاب ہونے پر سرکاری گاڑی کی فراہمی کا مطالبہ بھی کر سکیں گے۔

سپریم کورٹ 29 جولائی، 2025 کو ججوں کی بیرون ملک چھٹیوں کے لیے قواعد میں ترمیم کردی گئی، ججز اب نجی غیر ملکی دورے اب صرف موسم گرما اور موسم سرما کی تعطیلات کے دوران کر سکتے ہیں۔ 

چیف جسٹس آف پاکستان کو اب یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جج کی پہلے سے منظور شدہ چھٹی کو منسوخ یا محدود کر سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے کی نئی پالیسی سپریم کورٹ نے جاری کی گئی فی کلومیٹر ریٹائرڈ جج دی جائے گی سماعت کی روپے سے کے لیے ججز کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔

امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے  باہمی  ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟

حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

عالمی ردعمل

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

قانونی ماہرین کی رائے

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ ٹیرف

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کا این سی سی آئی اے فیز 3 کے گریڈ 16 تا 18 کے افسران کو بڑا ریلیف
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس