پنجاب حکومت 3 دہائیوں بعد مقامی بینک سے لیے قرضوں کے بوجھ سے آزاد
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
حکام کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان کو قرض کی آخری قسط 13 ارب 80 کروڑ روپے ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد یہ باب مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، پنجاب حکومت نے بینکوں کی جانب سے قرض کو رول اوور کرنے کی تمام درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب حکومت نے تاریخی اقدام اٹھاتے ہوئے مقامی بینکوں سے لیے گئے قرضوں کا مکمل خاتمہ کر دیا۔ اس اقدام سے صوبہ 3 دہائیوں بعد قرضوں کے بوجھ سے آزاد ہو گیا ہے، حکومت پنجاب نے گندم خریداری اور سبسڈی کی مد میں لیے گئے 675 ارب روپے کے قرض کی مکمل ادائیگی کر دی جس کے نتیجے میں روزانہ 25 کروڑ روپے سود کی ادائیگی سے عوام کو نجات مل گئی ہے۔ حکام کے مطابق نیشنل بینک آف پاکستان کو قرض کی آخری قسط 13 ارب 80 کروڑ روپے ادا کر دی گئی ہے جس کے بعد یہ باب مکمل طور پر بند ہو گیا ہے، پنجاب حکومت نے بینکوں کی جانب سے قرض کو رول اوور کرنے کی تمام درخواستیں بھی مسترد کر دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بروقت ادائیگی نہ کی جاتی تو حکومت کو ہر ماہ 50 کروڑ روپے سود دینا پڑتا، اس تاریخی ادائیگی سے نہ صرف صوبے کو مالی خودمختاری حاصل ہوئی ہے بلکہ یہ عوامی وسائل کو براہ راست فلاحی منصوبوں پر خرچ کرنے کی راہ بھی ہموار کرتی ہے۔ پنجاب حکومت کے اس فیصلے کو مالی نظم و ضبط اور عوامی مفاد میں ایک بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے جو آئندہ بجٹ میں فلاحی اقدامات کے لیے زیادہ گنجائش پیدا کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت کروڑ روپے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔