اسلام آباد(نیوز ڈیسک) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو 22 اپریل کو پہلگام میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد سے 10مئی کو جنگ بندی تک جس تناؤ کا سامنا تھا اب یہ تناؤ داخلی سطح پر شدید دباؤ کی شکل اختیار کر گیا جس کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اس بات کا اندازہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کے ٹوئٹر پوسٹ میں لگائے الزامات اور سوالات سے لگایا جا سکتا ہے جن میں انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر سے یہ سوال بھی کیا ہے کہ آپریشن سندور میں بھارتی فضائیہ کتنے طیاروں سے محروم ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق راہول گاندھی نے ہفتہ کو بی جے پی کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر ʼآپریشن سندورʼ سے پہلے پاکستان کو مبینہ طور پر مطلع کرنے کا الزام لگایا اور اسے جرم قرار دیا۔

رائے بریلی سے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ہمارے حملے کے آغاز میں پاکستان کو اطلاع دینا جرم تھا۔

اُنہوں نے لکھا کہ وزیر خارجہ نے کھلے عام اعتراف کیا کہ بھارتی حکومت نے یہ کیا۔

راہول گاندھی نے اس معاملے پر برسراقتدار حکومت سے بھی سوال کیا کہ اس کی اجازت کس نے دی؟ اس کے نتیجے میں ہماری فضائیہ کے کتنے طیارے ضائع ہوئے؟ اور دیس کو کتنا نقصان ہوا؟ راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر آپریشن سندور کا ذکر کر رہے ہیں۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: راہول گاندھی نے

پڑھیں:

شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال