بھارت میں پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں معروف یوٹیوبر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارت میں پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں معروف بھارتی یوٹیوبر کو گرفتار کرلیا گیا۔
بھارتی میڈیاکے مطابق معروف ٹریول وی لاگر جیوتی ملہوترا کو ہریانہ کے شہر حصار سے گرفتار کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جیوتی ملہوترا ’ٹریول وِد جو‘ کے نام چینل چلاتی ہیں جس کے ساڑھے 3 لاکھ سے زائد سبسکرائبرز ہیں جبکہ وہ انسٹاگرام پر بھی خاصی مقبول ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق جیوتی ملہوترا ماضی میں 2 مرتبہ پاکستان کا بھی سفر کرچکی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یوٹیوبر جیوتی ملہوترا علاوہ دیگر 5 افراد بھی پاکستان کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیے گئے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بھارتی میڈیا کی جانب سے بھارتی پنجاب میں 2 افراد کو مبینہ طور پر پاکستان کیلئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
بھارتی میڈیا کا دعویٰ تھا کہ دونوں افراد پر پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک اہلکار کے لیے جاسوسی کا الزام ہے، ایک ملزم پر بھارتی فوج کی نقل و حرکت کی معلومات لیک کرنے کا الزام ہے۔ بھارتی میڈیا نے بتایاکہ جاسوسی کے الزام میں گرفتار2 افراد میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
لاہور سمیت پنجاب بھر میں شدید گرمی، ہیٹ ویو الرٹ جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جاسوسی کے الزام میں بھارتی میڈیا کے مطابق
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ