احمد الشرع کی وائٹ ہاوس یاترا
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ویسے تو جس طرح شامی و اسرائیلی مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں احمد الشرع کی وائٹ ہاوس کی یاترا کی منظوری اسرائیل سے حاصل کی گئی، اس سے لگتا ہے کہ احمد الشرع کے شام کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ وہ جب چاہیں ایسا کر گزریں گے اور اس کی عملی یقین دہانیاں کروا دی گئیں۔ اس سب کے باوجود اسرائیل احمد الشرع پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے آپ دروز اور کردوں کی بڑھتی طاقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں گے۔ اب دروزوں کو دبانا احمد الشرع کے بس کی بات نہیں ہوگا۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
امریکی صدر سے صحافی نے سوال کیا کہ احمد الشرع اب آپ کے مہمان ہو رہے ہیں۔؟ مقصد یہ تھا کہ کل تک وہ دہشتگرد تھا، اب آپ کے پاس وائٹ ہاوس آرہا ہے۔ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ترکیہ اور کچھ دیگر ممالک بالخصوص اسرائیل کی درخواست پر پابندیاں ہٹائی ہیں۔ ایک وقت تھا، یہ داعش کا رہنماء اور عراق میں جنگ کر رہا تھا، امریکہ اور مغربی دنیا ان کے پیچھے تھی۔ پھر یہ ترکیہ پہنچ گئے، جہاں ان کی تربیت کی گئی اور خاص طور پر تیار کیا گیا۔ حالات بتا رہے ہیں کہ کل کا جولانی اور آج کا احمد الشرع خطے میں امریکی و اسرائیلی اثاثہ ثابت ہو رہا ہے۔ یہ دن رات مزاحمت اور اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف تو بات کرتے ہیں، مگر کسی بھی طور پر شام کے بڑے حصے پر قابض اسرائیل کے خلاف لب کشائی نہیں کرتے۔ ٹرمپ کا بیان چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ موصوف اور اسرائیل کے تعلقات کیسے ہیں؟ ورنہ اسرائیل کبھی اپنے دشمن کی سفارش نہیں کرتا کہ اس سے پابندیاں ہٹا لی جائیں۔
بین الاقوامی ادارے اور نعرے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی حیثیت کھوتے جا رہے ہیں۔ احمد الشرع نے ملاقات کے لیے امریکہ پہنچنا تھا اور ان کا نام دہشتگردوں کی اقوام متحدہ کی فہرست میں موجود تھا۔ امریکہ کے لیے اقوام متحدہ سمیت ہر ادارہ لبیک کہتا نظر آتا ہے۔ 7 نومبر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2799 منظور کی، جس کے تحت احمد الشرع کا نام ان افراد کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے، جن پر دہشت گرد تنظیموں داعش اور القاعدہ سے تعلق کی بنیاد پر پابندیاں عائد تھیں۔ امریکی مسودے پر مبنی اس قرارداد کے ذریعے شام کے وزیرِ داخلہ انس خطاب پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی گئیں۔ قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے، جبکہ چین نے رائے شماری سے اجتناب کیا۔
احمد الشرع کے ساتھ ساتھ ان کے دوست کو بھی نواز دیا گیا۔ ہر دو سے اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹا دی گئیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دہشتگرد بنانا اور امن کا عنوان دینا اس بات سے مشروط ہے کہ امریکہ کیا چاہتا ہے۔؟ جیسے ہی امریکہ چاہے تو کوئی بھی دہشتگرد بن جائے اور جیسے ہی امریکی ارادہ بدلے تو وہ دہشتگردوں سے نکل کر پرامن شہری بلکہ نام نہاد صدر بن کر وائٹ ہاوس کا مہمان بن جائے۔ امریکہ شام سے کیا چاہتا ہے۔؟ یہ بات تو واضح ہے کہ امریکہ جولانی کو مزاحمت کا راستہ کاٹنے اور اسرائیل کے تحفظ کے لیے لے کر آیا ہے اور اسی کے لیے استعمال کرے گا۔ اس ملاقات کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ نے پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں جو نقد مانگا ہے، میڈیا کے مطابق وہ یہ ہے کہ امریکہ دمشق کے قریب واقع المزہ فوجی ہوائی اڈے پر ایک فوجی اڈہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ شام اور اسرائیل کے درمیان پیش رفت پر بھی نظر رکھی جا سکے۔
اس سے اسرائیل بے فکر ہو کر جو چاہے کرے، اس بارڈر کی نگرانی امریکہ کے ہاتھوں چلی جائے گی۔ ہیرس کے بقول ٹرمپ کا شام کے لیے وژن، اس ملک کے ایک اسٹریٹیجک حصے پر اسرائیلی اثر و رسوخ کو آنے والے برسوں تک یقینی بناتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ امریکی افواج شام میں موجود نہیں ہیں یا اس کے اڈے نہیں ہیں۔ابھی تک شام میں تعینات امریکی فوج کی اکثریت شمال مشرق میں کرد افواج کے زیر کنٹرول علاقوں میں موجود ہے۔ بشار الاسد کی موجودگی میں امریکہ یا کسی بھی مغربی ملک کے تصور میں بھی نہیں تھا کہ انہیں دمشق کے پاس کوئی فوجی اڈا مل جائے گا، مگر جولانی نے سب کچھ ممکن کر دکھایا ہے۔
ٹرمپ ابراہیمی اکارڈ کو بھی بار بار میڈیا کی زینت بنا رہے ہیں۔ اس ملاقات میں بھی ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ شام دیگر عرب ممالک کی طرح ابراہیمی معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لے آئے گا۔ ویسے تو جس طرح شامی و اسرائیلی مذاکرات ہوئے، جس کے نتیجے میں احمد الشرع کی وائٹ ہاوس کی یاترا کی منظوری اسرائیل سے حاصل کی گئی، اس سے لگتا ہے کہ احمد الشرع کے شام کے لیے اسرائیل کو تسلیم کرنا کوئی بڑا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ وہ جب چاہیں ایسا کر گزریں گے اور اس کی عملی یقین دہانیاں کروا دی گئیں۔ اس سب کے باوجود اسرائیل احمد الشرع پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اسی لیے آپ دروز اور کردوں کی بڑھتی طاقت کا مشاہدہ کر رہے ہوں گے۔ اب دروزوں کو دبانا احمد الشرع کے بس کی بات نہیں ہوگا۔
آخر میں یہ لطیفہ بھی سن لیں کہ جولانی کی قیادت میں قائم حکومت نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات کے بعد شام نے پیر کے روز شدت پسند تنظیم داعش کے خلاف امریکی قیادت والے بین الاقوامی اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی۔ شام کے وزیرِ اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے اسے اور انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا کہ معاہدہ فی الحال سیاسی نوعیت کا ہے اور اس میں کوئی فوجی شق شامل نہیں، لیکن یہ شام کے لیے عالمی سطح پر ایک اہم شراکت داری کی علامت ہے۔ جس سے ''دہشت گردی کے خلاف شراکت دار کے طور پر اپنے کردار اور علاقائی استحکام کی حمایت‘‘ کی توثیق ہوتی ہے۔ ایسے عالی شان کارنامے امریکی صدر ٹرمپ ہی دکھا سکتے ہیں، جو ایک مدت تک داعش کے فیلڈ کمانڈر کو حکومت مل جانے کے بعد اسی داعش کے خلاف اتحادی قرار دے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور اسرائیل کے احمد الشرع کے شام کے لیے وائٹ ہاوس نہیں ہیں رہے ہیں کے خلاف اور اس
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔