اسلام ٹائمز: امریکی صدر کی جانب سے اچانک ہی شام پر عائد پابندیاں ختم کر دینے کے اعلان اور چند دن پہلے ریاض میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ہمراہ ابو محمد الجولانی سے ملاقات نے ھیئت تحریر الشام اور غاصب صیہونی رژیم کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کی رفتار میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں اسرائیلی فوج کے اہم عہدیدار اود باسیوک نے باکو میں شام حکومت کے چند نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں ترکی کے چند حکومتی عہدیدار بھی موجود تھے۔ صیہونی رژیم کے چینل 12 کے مطابق شام کے نمائندوں نے ابو محمد الجولانی کا پیغام پہنچایا جس میں اسلامی مزاحمت سے مقابلہ کرنے اور ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ملاقات میں الجولانی پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہیم معاہدے میں شمولیت اختیار کر لے۔ تحریر: سید رضا حسینی
جب شام پر بشار اسد کے مخالفین برسراقتدار آئے تو اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم نے انہیں اپنا دشمن قرار دیا۔ لہذا ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں نگران حکومت تشکیل پانے کے چند دن بعد ہی اسرائیلی فوج 1973ء کی جنگ بندی کے نتیجے میں تشکیل پانے والی کنٹرول لائن عبور کر کے شام کے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جنوب مغربی علاقے میں داخل ہو گئی اور صوبہ قنیطرہ اور ہرمون پہاڑیوں پر قبضہ جما لیا۔ صیہونی حکمرانوں نے اپنی شمال مشرقی سرحدوں پر ایک تکفیری فوج تشکیل پانے پر تشویش کا اظہار کیا اور اس کے بعد جرمانیا قصبے کے اردگرد ایک بفر زون تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے اسرائیل نے شام کے دروزی طبقے سے تعلق رکھنے والی اقلیت کو استعمال کیا اور شام کے جنوبی علاقوں میں موجودہ نگران حکومت کی رٹ کمزور کرنے کی کوشش کی۔
شام میں سابق صدر بشار اسد کی حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد ہی اسرائیل نے دمشق، طرطوس، لاذقیہ، حماہ، حمص، درعا، قنیطرہ، حلب اور حسکہ سمیت وسیع علاقوں کو شدید فضائی حملوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ان حملوں میں شام آرمی کے ٹھکانے، تحقیقاتی مراکز اور فوجی ہوائی اڈے تباہ کر دیے گئے۔ دوسری طرف ابو محمد الجولانی کی سربراہی میں دمشق کی نگران حکومت نے اسرائیل سے سازباز کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ اس کا مقصد شام میں ھیئت تحریر الشام کی حکومت مضبوط بنانا تھا۔ شام کے نام نہاد صدر نے دو ہفتے پہلے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اعلان کیا تھا: "مختلف ثالث ممالک کے ذریعے اسرائیل سے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں جن کا مقصد تناو میں کمی لانا ہے تاکہ صورتحال بے قابو ہونے سے روکی جا سکے۔" دمشق تل ابیب میں تعلقات معمول پر لانے کا منصوبہ دو راستوں سے آگے بڑھ رہا ہے۔
پہلا راستہ جو زیادہ سرکاری ہے ترکی حکام کے ساتھ مذاکرات پر مشتمل ہے جو باکو میں آذربائیجان حکومت کی زیر نگرانی انجام پا رہے ہیں۔ عبری سفارتی ذرائع نے گذشتہ ہفتے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان مذاکرات میں اسرائیل کے حکومتی نمائندے بھی شامل ہیں۔ دوسرا راستہ جو کم سرکاری سطح کا ہے وہ متحدہ عرب امارات کے اعلی سطحی حکام کی جانب سے شروع ہوا ہے۔ یہ راستہ اسرائیل کے سابق سیکورٹی عہدیداروں سے بات چیت پر مشتمل ہے۔ یاد رہے آذربائیجان اور متحدہ عرب امارات اسرائیل سے وسیع سفارتی تعلقات استوار کر چکے ہیں۔ المانیتور سے وابستہ ذرائع نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ابو محمد الجولانی نے جیسے ہی متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا انہیں ابوظہبی میں ایک اعلی سطحی حکومتی عہدیدار کے بنگلے میں لے جایا گیا جہاں ان کی ملاقات ایک اسرائیلی وفد سے ہوئی۔
خفیہ ملاقات
امریکی صدر کی جانب سے اچانک ہی شام پر عائد پابندیاں ختم کر دینے کے اعلان اور چند دن پہلے ریاض میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے ہمراہ ابو محمد الجولانی سے ملاقات نے ھیئت تحریر الشام اور غاصب صیہونی رژیم کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کی رفتار میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ گذشتہ چند دنوں میں اسرائیلی فوج کے اہم عہدیدار اود باسیوک نے باکو میں شام حکومت کے چند نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں ترکی کے چند حکومتی عہدیدار بھی موجود تھے۔ صیہونی رژیم کے چینل 12 کے مطابق شام کے نمائندوں نے ابو محمد الجولانی کا پیغام پہنچایا جس میں اسلامی مزاحمت سے مقابلہ کرنے اور ابراہیم معاہدے میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ملاقات میں الجولانی پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہیم معاہدے میں شمولیت اختیار کر لے۔
اقتصادی بقا کی شرط اسرائیلی تسلط قبول کرنا
ابومحمد الجولانی رژیم شدید اقتصادی مسائل سے روبرو ہے۔ شام زرمبادلہ کے ذخائر میں شدید کمی، مستحکم مالی ذرائع تک رسائی نہ ہونا اور بجٹ کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہے۔ تنخواہ نہ دے پانے کے باعث بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے جن میں زیادہ تعداد علوی شہریوں کی ہے۔ اسی وجہ سے گذشتہ چند ماہ میں لاذقیہ اور طرطوس میں شدید ہنگامے بھی ہوئے ہیں۔ لذا شام کی نئی حکومت اسرائیل سے تعلقات معمول پر لا کر اقتصادی مشکلات حل کرنے کی امید لگائے بیٹھی ہے۔ امریکہ کے مالی اداروں جیسے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے تعاون کی بنیادی شرط ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنا ہے جبکہ ٹرمپ شام سے چاہتا ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لے آئے۔ یوں شام کی نئی حکومت کے سامنے ایک ہی راستہ ہے اور وہ اسرائیلی تسلط اور بالادستی قبول کر لینے پر مشتمل ہے۔
دمشق کی کرنسی امارات اور جرمنی میں چھپے گی
ھیئت تحریر الشام کی جانب سے اسرائیل سے تعاون کرنے کے فیصلے اور وائٹ ہاوس کی جانب سے شام پر ابو محمد الجولانی کا تسلط مان لینے کا اشارہ دینے کے بعد شام کے دو اہم ذریعوں نے رویٹرز کو بتایا ہے کہ نئی کرنسی چھاپنے کے لیے شام کے حکام متحدہ عرب امرات کی "اومولات" کمپنی سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ اسی طرح جرمنی کی ایک سرکاری کمپنی نے بھی شام کے لیے نئے نوٹ چھاپنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ شام کے حکمرانوں نے دعوی کیا ہے کہ عام شہری موجودہ کرنسی لیرہ جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ شام کی نئی حکومت اور متحدہ عرب امارات مین تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔ حال ہی میں امارات کی کمپنی ڈی پی ورلڈ اور شام حکومت کے درمیان 800 ملین ڈالر کا ایک معاہدہ ہوا ہے جس کا مقصد طرطوس بندرگاہ میں توسیع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ابراہیم معاہدے میں ابو محمد الجولانی ھیئت تحریر الشام متحدہ عرب امارات تعلقات معمول پر صیہونی رژیم کے ملاقات میں اسرائیل سے کی جانب سے سے ملاقات حکومت کے باکو میں شام کی کر دیا کے چند شام کے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔