پرتگال سے افسوسناک خبر؛ معروف فٹبالر کار حادثے میں جان کی بازی ہار گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
لیور پول اور پرتگال کے معروف فارورڈ فٹ بالر ڈیوگو جوٹا کار حادثے میں انتقال کر گئے، وہ کرسٹیانو رونالڈو کے پرتگال ٹیم کے ساتھی بھی تھے۔
حادثہ آئس 52 موٹروے پر اسپین کے زامورا صوبے میں پیش آیا، جہاں وہ اپنے بھائی آندرے سلوا کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔
گاڑی ٹائر پنکچر ہونے کی وجہ سے اپنا کنٹرول کھو بیٹھی اور آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔
ڈیوگو جوٹا کی عمر 28 سال تھی اور وہ جولائی 2020 میں وولز سے لیورپول منتقل ہوئے تھے۔ انہوں نے لیورپول کے لیے متعدد ٹائٹلز جیتے۔
انہوں نے 22 جون 2025 کو اپنی پارٹنر روٹ کارڈوسو سے شادی کی تھی اور ان کے تین بچے بھی ہیں۔
واضح رہے کہ ڈیاگو جوٹا 2020 میں وولز کو خیرباد کہہ دینے کے بعد 41 ملین پاؤنڈ معاوضے کے ساتھ لیور پول میں شامل ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔