خیبر پختونخوا میں آندھی و طوفان کی تباہ کاریاں،3افراد جاں بحق،14زخمی،مزید بارش کی توقع
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ روز آنے والی آندھی و طوفان سے مختلف اضلاع میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 14 افراد زخمی ہوگئے. محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان، صوابی، چترال، سوات، دیر، شانگلہ، باجوڑ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان، بٹگرام، خیبر، کرم، ڈی آئی خان، شمالی و جنوبی وزیرستان، بنوں اور کوہاٹ کے علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ پشاور میں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جب کہ ڈی آئی خان میں پارہ 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ پشاور کا کم سے کم درجہ حرارت 23 ڈگری جبکہ سب سے کم درجہ حرارت کالام اور دیر میں 13 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں آندھی اور طوفان کے باعث درخت اور دیواریں گرنے کے واقعات پیش آئے، جن میں 3 افراد جاں بحق جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک بچہ اور دو مرد شامل ہیں۔ زخمیوں میں 8 مرد، 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ نوشہرہ میں 6، پشاور اور مردان میں 2،2 جبکہ خیبر میں ایک شخص زخمی ہوا۔ طوفانی ہواؤں سے 3 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا، جن میں سے ایک ایک گھر پشاور، مردان اور چارسدہ میں متاثر ہوا۔ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور موسمی حالات سے باخبر رہنے کی اپیل کی ہے۔
.ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
ملک کے بیشتر حصے سخت گرمی کی لپیٹ میں، سبی میں پارہ 50 ڈگری کو پہنچ گیا
فائل ایمیجملک کے بیشتر حصے سخت گرمی کی لپیٹ میں ہیں جس کے باعث ہیٹ ویو کی صورتِ حال جاری ہے۔
سبی 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے ساتھ ملک کا گرم ترین شہر رہا جبکہ تربت میں درجۂ حرارت 45 ڈگری ریکارڈ کیا گیا، تاہم یہاں گرمی کی شدت 49 ڈگری تک محسوس کی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ لاڑکانہ اور نواب شاہ میں 49 جبکہ سکھر، دادو، جیکب آباد میں 48 اور کوئٹہ میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
حیدرآباد، لاہور، فیصل آباد اور پشاور میں 42 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی کی شدت 47 ڈگری، اسلام آباد اور راولپنڈی میں 45 ڈگری کی گرمی 48 اور کراچی میں 34 ڈگری کی گرمی 38 ڈگری محسوس کی گئی۔
گرمی میں اضافے کے ساتھ ہی ٹھنڈے مشروبات کی طلب بڑھ گئی جبکہ گرمی کے باعث ہونے والی بیماریوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔