WE News:
2026-07-24@07:21:37 GMT

عزیز ہم وطنو! آپ تگڑے ثابت ہوئے اب اسی طرح سوچو

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

شکتی یعنی طاقت کی ہندو مت میں اہمیت ہے، بی جے پی ہندوتوا، ہندو اسٹیٹ ہندو طاقت کے طور پر انڈیا کو بطور ریاست فروغ دے رہی ہے، کبھی اپنی سافٹ پاور کا اظہار کرتے ہیں، کبھی اپنی معیشت پر ناز ہوتا ہے، کبھی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی سفارت میں۔

ہندو مت کے حساب سے 51 شکتی پیٹھ ہیں، یعنی ایسے مقامات جہاں پوجا کرکے شکتی (طاقت) حاصل کی جاسکتی ہے، ان 51 میں سے 18 مہا شکتی پیٹھ (سپر نیچرل طاقت) کے مراکز ہیں، پاکستان میں ایسے دو مراکز ہیں، ہنگلاج ماتا مندر شکتی پیٹھ ہے جو ہنگول نیشنل پارک بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے کے قریب واقع ہے۔

بی جے پی کے بانی ممبر آنجہانی جسونت سنگھ انڈیا کے وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع رہے ہیں۔ یہ ہنگلاج ماتا مندر سے گہری وابستگی رکھتے تھے، اس کا دورہ کرنے 2006 میں پاکستان بھی آ چکے ہیں، بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ ترون وجے اس مندر تک رسائی کے لیے سہولتوں کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

آسام کے موجودہ وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما ہنگلاج ماتا مندر تک رسائی کا مطالبہ تو کرتے ہیں، ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ بلوچستان کی آزادی کی حمایت اس ہندو مقدس مقام تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی کرنی چاہیے۔

شاردا مندر (شاردا پیٹھ) وادی نیلم آزاد کشمیر میں واقع ہے، شاردا مندر 18 مہا شکتی پیٹھ میں شامل ہے، انڈین وزیراعظم نریندر مودی، انڈین وزیر خارجہ امیت شاہ، بی جے پی کے نائب صدر اویناش رائے کھنہ سمیت شاردا سے عقیدت رکھنے والے بی جے پی رہنماؤں کی ایک طویل فہرست ہے، جب بی جے پی قیادت آزاد کشمیر کو واپس لینے کا کہتی ہے تو اس کے پس منظر میں پوری سنجیدگی اور شاردا کے مذہبی مقام سے وابستگی بھی ہوتی ہے۔

ہمارے بھارت مہان نے اپنی شکتی (طاقت) کا غلط اندازہ لگایا، دہشتگردی کے ایک واقعے کی تفتیش مکمل کیے بغیر ملزموں کی شناخت یا گرفتاری کے بغیر ہی پاکستان کو اپنا ماسی ویڑا سمجھتے ہوئے انٹرنینشل باڈر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حملے کیے۔ انڈین فضائیہ کا ان حملوں میں جلوس نکل گیا، ڈیفنس کی عالمی نیوز سائٹ میں بھارتی سینا کی مہارت کا مجرا ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان بطور ایک ریجنل پاور زیر بحث ہے۔

چائنا اکیڈمی کی ویب سائٹ پر 7 مئی کے دن کی روداد کچھ اس طرح بیان ہوئی ہے۔ 7 مئی 2025 کو پاک فضائیہ نے کشمیر کے فضائی معرکے میں بھارت پر برتری ثابت کرتے ہوئے 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں 3 جدید ترین رافیل بھی شامل تھے۔

پاکستان کا ہوم میڈ لنک 17 نیٹ ورک جس نے چینی ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے پاس موجود مختلف سسٹم کو مکمل ہم آہنگ (انٹیگریٹ کیا) کر لیا تھا۔ اس سے کامیابی کے ساتھ ایک مؤثر ”kill chain“ بنا لی ہے۔ تمام بھارتی طیارے بھارتی حدود کے اندر اس طرح گرائے گئے کہ کسی پاکستانی جیٹ نے بھارتی حدود کراس نہیں کی، اس کارروائی میں امریکی ایف 16 طیارے استعمال نہیں کیے گئے۔

یہ کامیابی چینی جے 10 سی طیاروں، پی ایل 15 ای میزائلوں، اور سویڈن کے Erieye اور چینی ساخت کے ZDK-03 جیسے ریڈار سسٹمز کو باہم مربوط کرکے ان کے بہترین امتزاج سے ممکن بنائی گئی۔ بھارت اگرچہ زیادہ طیارے رکھتا ہے، مگر ان کی باہمی مطابقت نہ ہونے کے باعث کارکردگی محدود رہی۔ انڈیا کے پاس موجود روسی اور فرنچ جیٹ اور سسٹم آپس میں کوآرڈینیٹ نہیں کر پاتے اور نہ ہی ریئل ٹائم میں آپس میں معلومات کا تبادلہ کر پاتے ہیں۔

کسی فرنچ کا حال پوچھیں تو وہ جواب میں انڈین مہارت کے داد دینے کو شاعری شروع کر دیتا ہے، دنیا کا ہمارے بارے خیال اور انداز تو تبدیل ہونا ہی تھا ہوگیا، پاک بھارت تناؤ کے ان دنوں میں پاکستان مخالف آوازیں پہلے مدہم ہوئیں پھر خاموش ہوگئیں۔ یہ وہ پاکستانی تھے جن کو ریاست، سیاست اور حکومت سے گلے ہیں، افغانستان کی جانب سے بھی ان دنوں پاکستان کے لیے مسائل پیدا نہیں کیے گئے، نہ اختلافی باتیں منظر عام پر آئیں۔

پاکستانی ریاست نے طرح طرح سے اپنی مضبوطی ثابت کی ہے، سیاسی عدم استحکام، تقسیم، بظاہر کمزور معاشی حالت اور ہر وقت تنقید کی زد میں رہنے والی فوج اور حکومت، اس سب کے ساتھ جو ہوا وہ معجزہ ہے۔ اب اس طاقتور پوزیشن کی فیل لیتے ہوئے اعتماد کے ساتھ بڑے کام ہونے چاہییں۔ معیشت اور سیاست کو سیدھا کرنے کے لیے وہ سب اقدامات لیں، جن سے فیل گڈ کا تاثر بنے۔

بلوچستان اور سابق فاٹا میں سیاسی اور معاشی پیشرفت کی ضرورت ہے، لوگوں کو دکھائی دیتے ریلیف ملنے چاہییں، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی معاشی تعلقات کو تیزی سے بہتر کر لینا چاہیے، جن کو بندوق کے ذریعے اپنے نظریاتی نشے پورے کرنے ہیں ان کے نشے بندوق سے ہی اتارنے بنتے ہیں، اگر آپ ریجنل طاقت ثابت ہوئے ہیں، تو سوچیں بھی اسی طرح، وہ میگا پراجیکٹ شروع کریں جو پاکستانیوں کی حقیقت میں قسمت بدلیں اور گیم چینجر ثابت ہوں، اس کے لیے بطور طاقت ہی سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

wenews بھارت پاکستان پاکستان بھارت جنگ چائنا خطے میں نئی طاقت رافیل طیارے معاشی مسائل ہم وطنو وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پاکستان پاکستان بھارت جنگ چائنا رافیل طیارے وی نیوز بی جے پی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار