WE News:
2026-06-03@01:39:46 GMT

عزیز ہم وطنو! آپ تگڑے ثابت ہوئے اب اسی طرح سوچو

اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT

شکتی یعنی طاقت کی ہندو مت میں اہمیت ہے، بی جے پی ہندوتوا، ہندو اسٹیٹ ہندو طاقت کے طور پر انڈیا کو بطور ریاست فروغ دے رہی ہے، کبھی اپنی سافٹ پاور کا اظہار کرتے ہیں، کبھی اپنی معیشت پر ناز ہوتا ہے، کبھی سیاست میں طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور کبھی سفارت میں۔

ہندو مت کے حساب سے 51 شکتی پیٹھ ہیں، یعنی ایسے مقامات جہاں پوجا کرکے شکتی (طاقت) حاصل کی جاسکتی ہے، ان 51 میں سے 18 مہا شکتی پیٹھ (سپر نیچرل طاقت) کے مراکز ہیں، پاکستان میں ایسے دو مراکز ہیں، ہنگلاج ماتا مندر شکتی پیٹھ ہے جو ہنگول نیشنل پارک بلوچستان میں کوسٹل ہائی وے کے قریب واقع ہے۔

بی جے پی کے بانی ممبر آنجہانی جسونت سنگھ انڈیا کے وزیر خزانہ، وزیر خارجہ اور وزیر دفاع رہے ہیں۔ یہ ہنگلاج ماتا مندر سے گہری وابستگی رکھتے تھے، اس کا دورہ کرنے 2006 میں پاکستان بھی آ چکے ہیں، بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ ترون وجے اس مندر تک رسائی کے لیے سہولتوں کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

آسام کے موجودہ وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما ہنگلاج ماتا مندر تک رسائی کا مطالبہ تو کرتے ہیں، ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ بلوچستان کی آزادی کی حمایت اس ہندو مقدس مقام تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی کرنی چاہیے۔

شاردا مندر (شاردا پیٹھ) وادی نیلم آزاد کشمیر میں واقع ہے، شاردا مندر 18 مہا شکتی پیٹھ میں شامل ہے، انڈین وزیراعظم نریندر مودی، انڈین وزیر خارجہ امیت شاہ، بی جے پی کے نائب صدر اویناش رائے کھنہ سمیت شاردا سے عقیدت رکھنے والے بی جے پی رہنماؤں کی ایک طویل فہرست ہے، جب بی جے پی قیادت آزاد کشمیر کو واپس لینے کا کہتی ہے تو اس کے پس منظر میں پوری سنجیدگی اور شاردا کے مذہبی مقام سے وابستگی بھی ہوتی ہے۔

ہمارے بھارت مہان نے اپنی شکتی (طاقت) کا غلط اندازہ لگایا، دہشتگردی کے ایک واقعے کی تفتیش مکمل کیے بغیر ملزموں کی شناخت یا گرفتاری کے بغیر ہی پاکستان کو اپنا ماسی ویڑا سمجھتے ہوئے انٹرنینشل باڈر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حملے کیے۔ انڈین فضائیہ کا ان حملوں میں جلوس نکل گیا، ڈیفنس کی عالمی نیوز سائٹ میں بھارتی سینا کی مہارت کا مجرا ہو رہا ہے، جبکہ پاکستان بطور ایک ریجنل پاور زیر بحث ہے۔

چائنا اکیڈمی کی ویب سائٹ پر 7 مئی کے دن کی روداد کچھ اس طرح بیان ہوئی ہے۔ 7 مئی 2025 کو پاک فضائیہ نے کشمیر کے فضائی معرکے میں بھارت پر برتری ثابت کرتے ہوئے 5 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں 3 جدید ترین رافیل بھی شامل تھے۔

پاکستان کا ہوم میڈ لنک 17 نیٹ ورک جس نے چینی ٹیکنالوجی کے ساتھ اپنے پاس موجود مختلف سسٹم کو مکمل ہم آہنگ (انٹیگریٹ کیا) کر لیا تھا۔ اس سے کامیابی کے ساتھ ایک مؤثر ”kill chain“ بنا لی ہے۔ تمام بھارتی طیارے بھارتی حدود کے اندر اس طرح گرائے گئے کہ کسی پاکستانی جیٹ نے بھارتی حدود کراس نہیں کی، اس کارروائی میں امریکی ایف 16 طیارے استعمال نہیں کیے گئے۔

یہ کامیابی چینی جے 10 سی طیاروں، پی ایل 15 ای میزائلوں، اور سویڈن کے Erieye اور چینی ساخت کے ZDK-03 جیسے ریڈار سسٹمز کو باہم مربوط کرکے ان کے بہترین امتزاج سے ممکن بنائی گئی۔ بھارت اگرچہ زیادہ طیارے رکھتا ہے، مگر ان کی باہمی مطابقت نہ ہونے کے باعث کارکردگی محدود رہی۔ انڈیا کے پاس موجود روسی اور فرنچ جیٹ اور سسٹم آپس میں کوآرڈینیٹ نہیں کر پاتے اور نہ ہی ریئل ٹائم میں آپس میں معلومات کا تبادلہ کر پاتے ہیں۔

کسی فرنچ کا حال پوچھیں تو وہ جواب میں انڈین مہارت کے داد دینے کو شاعری شروع کر دیتا ہے، دنیا کا ہمارے بارے خیال اور انداز تو تبدیل ہونا ہی تھا ہوگیا، پاک بھارت تناؤ کے ان دنوں میں پاکستان مخالف آوازیں پہلے مدہم ہوئیں پھر خاموش ہوگئیں۔ یہ وہ پاکستانی تھے جن کو ریاست، سیاست اور حکومت سے گلے ہیں، افغانستان کی جانب سے بھی ان دنوں پاکستان کے لیے مسائل پیدا نہیں کیے گئے، نہ اختلافی باتیں منظر عام پر آئیں۔

پاکستانی ریاست نے طرح طرح سے اپنی مضبوطی ثابت کی ہے، سیاسی عدم استحکام، تقسیم، بظاہر کمزور معاشی حالت اور ہر وقت تنقید کی زد میں رہنے والی فوج اور حکومت، اس سب کے ساتھ جو ہوا وہ معجزہ ہے۔ اب اس طاقتور پوزیشن کی فیل لیتے ہوئے اعتماد کے ساتھ بڑے کام ہونے چاہییں۔ معیشت اور سیاست کو سیدھا کرنے کے لیے وہ سب اقدامات لیں، جن سے فیل گڈ کا تاثر بنے۔

بلوچستان اور سابق فاٹا میں سیاسی اور معاشی پیشرفت کی ضرورت ہے، لوگوں کو دکھائی دیتے ریلیف ملنے چاہییں، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی معاشی تعلقات کو تیزی سے بہتر کر لینا چاہیے، جن کو بندوق کے ذریعے اپنے نظریاتی نشے پورے کرنے ہیں ان کے نشے بندوق سے ہی اتارنے بنتے ہیں، اگر آپ ریجنل طاقت ثابت ہوئے ہیں، تو سوچیں بھی اسی طرح، وہ میگا پراجیکٹ شروع کریں جو پاکستانیوں کی حقیقت میں قسمت بدلیں اور گیم چینجر ثابت ہوں، اس کے لیے بطور طاقت ہی سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

wenews بھارت پاکستان پاکستان بھارت جنگ چائنا خطے میں نئی طاقت رافیل طیارے معاشی مسائل ہم وطنو وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پاکستان پاکستان بھارت جنگ چائنا رافیل طیارے وی نیوز بی جے پی کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان

بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان(Aleema khan)  نے کہا کہ حکمراں اتنے خوفزدہ ہیں کہ بشریٰ بی بی کی فیملی کو بتایا ہوا ہے باہر جا کر بات نہیں کرنا۔

راولپنڈی میں گورکھپور فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے اور خوفزدہ ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آج اڈیالہ جیل کے اطراف کرفیو لگایا گیا ہے، بازار بھی بند کیا گیا ہے، ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم اپنے بھائی سے ملیں، بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھ کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

علیمہ خان نے کہا کہ میرے خلاف بھی کیس چل رہا ہے مجھے بھی جیل میں ڈال دیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • ناتمام (آخری قسط)
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان