اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندیاں ختم کر دی جائیں گی۔ ان گاڑیوں پر ٹیکسوں کی شرح نئی گاڑیوں کی نسبت 40 فیصد زیادہ مقرر کی جائیگی، آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کیلئے آئی ایم ایف ٹیم اسلام آباد پہنچ چکی ہے اور اس نے پاکستان سے سابقہ فاٹا/پاٹا کیلئے دی گئی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور کھاد پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی عمومی شرح نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ ایف بی آر نے 400 ارب روپے کی اضافی آمدن کا منصوبہ بھی شیئر کیا، آئی ایم ایف سے مفاہمت کے بعد پاکستان کا فی لیٹر فیول لیوی 100 روپے سے زائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اقدام توانائی کے شعبے کی سبسڈیز کو فنڈ کرنے اور گردشی قرضہ کم کرنے کیئے کیا جا رہا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے روڈ میپ کے مطابق مالی سال 2026 کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) اور ریگولیٹری ڈیوٹی (RD) کی مجموعی شرح نئی گاڑیوں کے مقابلے میں ابتدائی طور پر 40 فیصد زیادہ مقرر کی جائیگی اور یہ فرق ہر سال 10 فیصد کم کیا جائے گا، یہاں تک کہ 2030 تک مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔یہ اقدامات پاکستان کی نئی قومی ٹیرف پالیسی (National Tariff Policy – NTP 2025-30) کے تحت کیے جائیں گے، جو یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگی اور اسے مالی سال 2026 کے فنانس ایکٹ میں شامل کیا جائے گا۔تمام اضافی کسٹمز ڈیوٹی (ACDs) بتدریج ختم کی جائیں گی۔تمام ریگولیٹری ڈیوٹیز (RDs) میں 80 فیصد تک کمی کی جائے گی۔کسٹمز ایکٹ کے پانچویں شیڈول میں اصلاحات کی جائیں گی۔اس پالیسی کے تحت اوسط ٹیرف شرح کو 10.

6 فیصد (FY25) سے کم کر کے 7.4 فیصد (FY30) تک

لایا جائیگا۔حکومت پاکستان نے عہد کیا ہے کہ وہ آئندہ کوئی نئی ریگولیٹری ڈیوٹی متعارف نہیں کرائے گی۔ خاص طور پر آٹو انڈسٹری کیلئے موجودہ تحفظاتی پالیسیاں جیسے کہ AIDEP 2021-26 عوامی فلاح پر منفی اثر ڈال رہی ہیں، جنہیں نئی آٹو پالیسی (1 جولائی 2026 سے نافذ العمل) کے تحت بتدریج ختم کیا جائے گا۔نئی پالیسی کے مطابق:آٹو سیکٹر میں ACDs اور RDs مکمل طور پر ختم کیے جائینگے۔کسٹمز ڈیوٹی (CD) میں خاطر خواہ کمی کی جائیگی۔ان اقدامات سے اوسط ٹیرف شرح FY30 تک 6 فیصد سے بھی کم ہو جائیگی۔ حکومت پاکستان نے یہ بھی وعدہ کیا ہے کہ FY26 کی پہلی سہ ماہی میں پانچ سال سے کم پرانی گاڑیوں کی تجارتی درآمد پر تمام مقداری پابندیاں ہٹا دی جائیں گی۔گاڑیوں کی درآمد کیلئے ماحولیاتی اور حفاظتی معیار کو پورا کرنے کیلئے ریگولیشن اور ٹیسٹنگ سسٹم نافذ کیا جائے گا، جو جولائی 2026 سے گاڑی کی عمر کی حد کی جگہ لے گا۔ مزید برآں، حکومت نے نان ٹیرف رکاوٹوں (NTBs) کو ختم کرنے کیلئے دسمبر 2025 تک ایک جامع جائزہ مکمل کرنے کا وعدہ کیا ہے تاکہ موجودہ امپورٹ-ایکسپورٹ پالیسی آرڈر میں موجود پیچیدگیاں اور مسخ شدہ پالیسیاں ختم کی جا سکیں۔ذرائع کے مطابق ایف بی آر (FBR) نے ٹیکس وصولی کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 400 ارب روپے کی اضافی آمدن کا منصوبہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا ہے، جو کہ انتظامی بہتری اور ٹیکس کے نفاذ کے ذریعے حاصل کی جائے گی۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف کسٹمز ڈیوٹی کیا جائے گا گاڑیوں کی جائیں گی کے مطابق مالی سال کیا ہے ختم کی

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟