مصر کے صدر نے وزیراعظم کی دورہ پاکستان کی دعوت قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
وزیراعظم نے مصر کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں دورے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے مصر کے تعمیری کردار، اس کے متوازن بیانات اور جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران کے دوران فعال سفارت کاری پر صدر السیسی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مصر نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔
وزیراعظم نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بہادری سے دفاع کرنے پر پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان علاقائی امن کے مفاد میں بھارت کے ساتھ جنگ بندی مفاہمت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے مصری صدر کی توجہ سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کی طرف بھی مبذول کرائی جسے بھارت التواء میں رکھنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ ایک ایسا قدم جو پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت بالخصوص غزہ کی تشویشناک صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ کے لوگوں کو درکار انسانی امداد کی مسلسل اور بروقت فراہمی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ آئندہ ماہ دو ریاستی حل پر ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس کے بامعنی نتائج برآمد ہوں گے۔
پاکستان مصر تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
صدر السیسی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی مفاہمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصر پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد بھیجنے پر پاکستان کو سراہا۔
وزیراعظم نے مصری صدر کو پاکستان کے سرکاری دورے کی انتہائی پُرخلوص دعوت دی جسے مصری صدر نے قبول کر لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :