شہباز شریف نے  مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے  ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے مصر کے تعمیری کردار، اس کے متوازن بیانات اور جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران کے دوران فعال سفارت کاری پر صدر السیسی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم نے مصر کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں دورے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے  مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے  ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران انہوں نے مصر کے تعمیری کردار، اس کے متوازن بیانات اور جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران کے دوران فعال سفارت کاری پر صدر السیسی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد کی ہے۔ وزیراعظم نے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بہادری سے دفاع کرنے پر پاکستان کی بہادر مسلح افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان علاقائی امن کے مفاد میں بھارت کے ساتھ جنگ ​​بندی مفاہمت کو برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔  

انہوں نے مصری صدر کی توجہ سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کی طرف بھی مبذول کرائی جسے بھارت  التواء میں رکھنے کی دھمکی دے رہا تھا۔ ایک ایسا قدم جو پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت بالخصوص غزہ کی تشویشناک صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ کے لوگوں کو درکار انسانی امداد کی مسلسل اور بروقت فراہمی کو یقینی بنائے۔  انہوں نے یہ بھی امید ظاہر کی کہ آئندہ ماہ دو ریاستی حل پر ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس کے بامعنی نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان مصر تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

صدر السیسی نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی مفاہمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ مصر پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی امداد بھیجنے پر پاکستان کو سراہا۔ وزیراعظم نے مصری صدر کو پاکستان کے سرکاری دورے کی انتہائی پُرخلوص دعوت دی جسے مصری صدر نے قبول کر لیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مصر کے صدر کے دوران انہوں نے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی