اوگرا نے گیس نرخوں میں ردو بدل کی منظوری دے دی، سمری وفاقی حکومت کو ارسال
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
اوگرا (آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی) نے سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے لیے گیس نرخوں میں ردو بدل کی منظوری دے دی ہے۔ قیمتوں میں تبدیلی سے متعلق سمری حتمی منظوری کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری کردہ سفارشات کے مطابق سوئی سدرن کے لیے گیس نرخوں میں 103 روپے 95 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ سوئی ناردرن گیس کمپنی کے لیے گیس نرخوں میں 116 روپے 90 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
اوگرا کا کہنا ہے کہ سوئی ناردرن (ایس این جی پی ایل) کے لیے نرخوں میں اضافے کی بڑی وجہ آر ایل این جی کی درآمد میں اضافہ ہے، اوگرا نے ایس این جی پی ایل کی گیس مینجمنٹ سے متعلق معاملات بھی وفاقی حکومت کے سامنے رکھنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
علاوہ ازیں، اوگرا نے وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ گیس کی قیمتوں کو مختلف صارف کیٹیگریز کے مطابق مقرر کیا جائے تاکہ مالی سال 2025-26 کے شارٹ فال کو مدنظر رکھتے ہوئے بہتر قیمت پالیسی تشکیل دی جا سکے۔
حتمی نوٹیفکیشن وفاقی حکومت سے منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا جس کے بعد نئی قیمتوں کا اطلاق ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیس نرخوں میں وفاقی حکومت کے لیے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت