18 سال سے کم عمری میں شادی پر پابندی کا بل قرآن و سنت کے منافی ہے، جے یو آئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد:
جمیعت علما اسلام نے پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے کم عمری کی شادی کے بل کو قرآن اور سنت کے منافی قرار دے دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے منظور ہونے والے کم عمری سے متعلق بل پر جمیعت علما اسلام نے سخت مؤقف اپنایا ہوا ہے۔
ترجمان جے یو آئی نے بدھ کے روز اٹھارہ سال سے کم عمر شادی سے متعلق بل پر ردعمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ کم عمری کی شادی کا بل قرآن وسنت کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام اور پاکستان لازم و ملزوم ہیں، پاکستان کے دفاع کی طرح اسلام کے دفاع کو ایمانی فریضہ سمجھتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر شادی کے مسئلہ پر بھرپور احتجاج کریں گے۔ پارلیمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے ترجمان اسلم غوری نے کہا کہ لگتا ہے کہ پارلیمنٹ کا کام صرف خلاف اسلام قوانین بنانا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکمران آئے روز خلاف اسلام قوانین بنا کر ملک میں انارکی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں، اٹھارہ سال سے کم عمری کی شادی پر پابندی کے بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔