’کوئی سرجری نہیں کرائی، مجھے بخش دیں‘، علیزے شاہ برہم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ علیزے شاہ نے اپنی سرجری کروانے کے حوالے سے خاموشی توڑ دی۔
علیزے شاہ نے ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں انہوں نے کسی بھی قسم کی سرجری کروانے کی واضح الفاظ میں تردید کی ہے۔
ادکارہ کا کہنا تھا کہ ’اللہ کا واسطہ ہے، نہیں کروائی میں نے کوئی سرجری، بخش دیں مجھے پلیز، کہاں سے لگتا ہے ہے سرجری کرائی ہے میں نے۔ میں نے صرف تھوڑا سا وزن کم کیا ہے‘۔
View this post on Instagram
A post shared by Galaxy Lollywood (@galaxylollywood)
ایک اور ویڈیو میں اداکارہ نے کہا کہ انہوں نے جب ڈرامہ سیریل عہد وفا میں کام کیا تھا تو اس وقت وہ صرف 17 سال کی تھیں، اور پروڈکشن ہاؤس میں سب لوگوں کو یہ بات پتا ہے کہ ڈرامے کے کانٹریکٹ پر میری امی نے دستخط کیے تھے کیوں کہ میرا شناختی کارڈ نہیں بنا ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ لوگ مجھ سے کیوں یہ توقع کرتے ہیں کہ 6 سال کے طویل عرصے بعد بھی میں اسی طرح دکھائی دوں۔
واضح رہے کہ اداکارہ ڈراما سیریل عہد وفا سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچیں اور اس کے بعد کئی ہٹ ڈراموں میں نظر آئیں۔ آج کل وہ سوشل میڈیا پر اپنی بولڈ تصاویر کی وجہ سے وائرل ہیں جس پر انہیں صارفین کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے اس کے علاوہ ان پر پلاسٹک سرجری کرانے کا الزام بھی لگایا جاتاہے۔
حال ہی میں معروف اداکارہ صبا فیصل سے سوال کیا گیا کہ میں کچھ اداکاراؤں کے نام لوں گی آپ کو یہ بتانا ہے کہ ان کی خوبصورتی کتنے فیصد قدرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماڈل علیزے شاہ کا سوشل میڈیا سے تعلق ختم کرنے کا فیصلہ، آخری پوسٹ میں کیا کہا؟
اس پر صبا فیصل نے جہاں ماہرہ خان، عائزہ خان، اقرا عزیز اور درِ فشاں کو 100 فیصد قدرتی خوبصورت قرار دیا وہیں ہانیہ عامر کو 70 فیصد، ریما اور مہوش حیات کو 60 فیصد، علیزے کو 20 فیصد، متھیرا کو 11 فیصد جبکہ خود کو 10 فیصد قدرتی خوبصورت قرار دیا۔
اس کے علاوہ کچھ عرصے قبل ادکارہ نازش جہانگیر نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا تھا علیزے پہلے بہت پیاری تھیں، وہ بالکل گڑیا جیسی دکھتی تھیں لیکن پھر انہوں نے کاسمیٹک سرجری کروالی اور اپنے چہرے کو بگاڑ لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی ڈرامے صبا فیصل علیزے شاہ علیزے شاہ سرجری عہد وفا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے صبا فیصل علیزے شاہ علیزے شاہ سرجری عہد وفا علیزے شاہ انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔