حزب اللہ کا جھنڈا لہرانے کے الزام میں آئرش گلوکار پر فرد جرم عائد
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
گلوکار کی جانب سے ایک سال قبل مبینہ طور پر لہرائے گئے جھنڈے کی ویڈیوز اور تصاویر گزشتہ ماہ اپریل کے آغاز میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کرکے تفتیش شروع کردی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ آئرلینڈ کے میوزیکل بینڈ نیکیپ کے نوجوان گلوکار پر ایک سال قبل حزب اللہ کا جھنڈا لہرانے کے الزام میں دہشت گردی کی فرد جرم عائد کردی گئی جب کہ گلوکار نے الزامات کو مسترد کردیا۔ خبر رساں ادارے ایجنسی پریس فرانس کے مطابق نیکیپ بینڈ کے گلوکار 27 سالہ لیام اوہانا پر لندن کی مقامی عدالت نے 22 مئی کو فرد جرم عائد کی۔ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق گلوکار پر لندن میں ہونے والے ایک میوزک کنسرٹ کے دوران برطانیہ میں کاالعدم قرار دی گئی تنطیم حزب اللہ کا جھنڈا لہرانے کا الزام تھا۔ پولیس کے مطابق گلوکار پر الزام ہے کہ انہوں نے نومبر 2024 میں لندن میں ہونے والے ایک کنسرٹ کے دوران اس طرح حزب اللہ کا جھنڈا تھامہ، جس سے عندیہ ملتا تھا کہ انہوں نے کالعدم تنظیم کا جھنڈا لہرایا۔
گلوکار کی جانب سے ایک سال قبل مبینہ طور پر لہرائے گئے جھنڈے کی ویڈیوز اور تصاویر گزشتہ ماہ اپریل کے آغاز میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کرکے تفتیش شروع کردی تھی۔ لیام اوہانا پر عدالت کی جانب سے فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد ان کے بینڈ نے مقدمے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کرنے اور قانونی جنگ لڑنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ گلوکار نے اپنے بیان میں خود پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ویڈیوز اور تصاویر کو غلط انداز میں پھیلا کر تاثر دیا گیا کہ انہوں نے حزب اللہ کا جھنڈا لہرا، جب کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔ گلوکار کے مطابق وہ ہمیشہ فلسطین کے حق میں بات کرتے رہے ہیں اور فرد جرم عائد کرنے کا مقصد ان کی فلسطین کی آواز کو خاموش کروانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حزب اللہ کا جھنڈا گلوکار پر کے مطابق
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔