ٹرمپ کے جنگ بندی دعوؤں پر مودی کی خاموشی افسوسناک ہے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
کانگریس نے کہا کہ اگر ٹرمپ کی باتیں درست نہیں تو بھارتی حکومت کیوں خاموش ہے اور اگر درست ہیں تو عوام کو سچائی کیوں نہیں بتائی جا رہی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے پر کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ان کی مداخلت سے ممکن ہوئی، کانگریس نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نریندر مودی کی مسلسل خاموشی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ پارٹی کے سینیئر لیڈر جے رام رمیش اور ترجمان پون کھیڑا نے کہا ہے کہ ٹرمپ دعویٰ کر رہے ہیں کہ انہوں نے "آپریشن سندور" کو رکوانے کے لئے ہندوستان پر تجارتی دباؤ ڈالا لیکن مودی نے اب تک ایک بار بھی ان دعوؤں کی تردید نہیں کی۔ کانگریس نے کہا کہ اگر ٹرمپ کی باتیں درست نہیں تو بھارتی حکومت کیوں خاموش ہے اور اگر درست ہیں تو عوام کو سچائی کیوں نہیں بتائی جا رہی۔ کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ یہ گیارہ دنوں میں آٹھویں بار ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے نہ صرف جنگ بندی کا پورا کریڈٹ خود لیا بلکہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم کو برابر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں کو قائل کیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تجارتی دباؤ ان کا اصل ہتھیار تھا لیکن ہمارے وزیر اعظم، جو ٹرمپ کے قریبی دوست سمجھے جاتے ہیں، اب تک ان بیانات پر مکمل خاموش ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی مکمل خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، حالانکہ امریکی وزیر خارجہ نے بھی ان دعوؤں کی تائید میں بات کی اور بھارت پاکستان مذاکرات کے لئے "نیوٹرل سائٹ" کا حوالہ دیا، آخر یہ گونگی خاموشی کیوں ہے۔ دریں اثنا کانگریس ترجمان پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ آٹھویں بار ہے جب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے آپریشن سندور رکوا دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہندوستان پر تجارتی دباؤ ڈال کر یہ ممکن بنایا گیا لیکن وزیر اعظم مودی نے ایک بار بھی اس دعوے کو مسترد نہیں کیا، آخر یہ خاموشی کس بات کا اشارہ ہے۔
ٹرمپ کے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا کہ اگر آپ دیکھیں کہ ہم نے ابھی پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ کیا کیا، تو ہم نے اس معاملے کو سلجھا دیا اور میرے خیال میں یہ سب میں نے تجارت کے ذریعے کیا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کر رہے ہیں، پاکستان کے ساتھ بھی، کوئی نہ کوئی آخری گولی چلانے والا ہوتا ہے لیکن فائرنگ بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ پاکستان میں بہترین لوگ ہیں اور بہت اچھے رہنما ہیں اور ہندوستان میرا دوست ہے۔ کانگریس نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ٹرمپ کی یہ باتیں بے بنیاد ہیں تو بھارتی حکومت فوری وضاحت کیوں نہیں دیتی اور اگر ان میں سچائی ہے تو پھر عوام کو اعتماد میں کیوں نہیں لیا جا رہا۔ کانگریس پارٹی کا کہنا ہے کہ خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات پر وزیر اعظم کی خاموشی صرف حیران کن نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کانگریس نے کیوں نہیں انہوں نے ٹرمپ کے نے کہا کہا کہ کہ اگر ہیں تو
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔