قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بعد حکومت نے ملک میں افراطِ زر کی شرح میں حالیہ کمی کے نتیجے میں قومی بچت کی مختلف اسکیموں پر منافع کی شرح میں ایک فیصد تک کمی کردی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت نے قومی بچت اسکیموں پر منافع کی شرح میں کمی کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں کمی کے بعد حکومت نے ملک میں افراطِ زر کی شرح میں حالیہ کمی کے نتیجے میں قومی بچت کی مختلف اسکیموں پر منافع کی شرح میں ایک فیصد تک کمی کردی ہے۔ اس حوالے سے محکمہ قومی بچت نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے مطابق نئی شرح کا اطلاق 21 مئی 2025 سے ہوگا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق منافع کی شرح میں ایک فیصد تک کمی کی گئی ہے، جس کا اطلاق مختلف بچت اسکیموں پر علیحدہ علیحدہ شرح سے ہوگا۔ سیونگ اکاؤنٹ پر منافع کی شرح ایک فیصد کمی کے بعد اب 9.
اسی طرح ریگولر انکم سرٹیفکیٹس پر منافع 18 بیسز پوائنٹس کم کر کے 11.52 فیصد، ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹس کی منافع کی شرح 21 بیسز پوائنٹس کمی سے 11.91 فیصد ہو گئی ہے جب کہ بہبود سیونگز سرٹیفکیٹس، پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ پر منافع 24 بیسز پوائنٹس کمی کے بعد اب 13.4 فیصد دیا جائے گا۔ قومی بچت حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ افراط زر کی موجودہ رفتار اور مالیاتی پالیسی کے رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسکیموں پر منافع کی شرح میں بیسز پوائنٹس کمی کے بعد قومی بچت ایک فیصد
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔