Jang News:
2026-07-24@08:53:38 GMT

صوبوں پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی دباؤ ہے: مزمل اسلم

اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT

صوبوں پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی دباؤ ہے: مزمل اسلم

مشیرِ خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے کہا ہے کہ صوبوں پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی دباؤ ہے۔

مزمل اسلم کی زیرِ نگرانی پری بجٹ مشاورتی اجلاس ہوا، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا مالی لحاظ سے 93 فیصد وفاق پر منحصر ہے، صوبہ پورے بجٹ کا صرف 7 فیصد محصولات اکٹھا کرتا ہے۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں باقی صوبوں سے کم محصولات جمع ہوتے ہیں، رواں مالی سال کے پی نے ٹیکس و نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ کیا۔

بجٹ کی تیاری، وفاقی ترقیاتی بجٹ کا 1200 ارب کا تخمینہ

اسلام آباد وفاقی حکومت نے آئند ہ مالی سال کیلئے.

..

مشیر خزانہ کے پی نے کہا کہ پشاور سیف سٹی کےلیے 2 ارب جاری کر دیے گئے ہیں، تاجروں اور صنعتکاروں کے تمام جائز شکایات کا ازالہ کیا جائے گا،  تعلیمی اداروں پر ٹیکس کو فکسڈ کر دیا ہے، جو بہت کم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پچھلے سال پراپرٹی انتقال ٹیکس کو 6.5 فیصد سے 3.5 تک کم کیا ہے، کے پی میں گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس باقی صوبوں سے کم ہے۔

اجلاس کے دوران وزیر ایکسائز نے بتایا کہ  پچھلے سال پراپرٹی رینٹل ٹیکس 16 فیصد سے 10 فیصد تک کم کیا ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن کےلیے یونیورسل نمبر پلیٹ اسکیم شروع کی ہے۔

سیکریٹری ایکسائز نے کہا کہ ہر ہفتے منگل کا دن سیکریٹری ایکسائز کا اوپن ڈے ہوگا جس میں مسائل سنے جائیں گے۔ 

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ کارخانوں پر 2020ء سے پہلے بقایاجات کم کرنے کے لیے ایمنسٹی اسکیم پر غور کیا جائے گا، تاجروں اور صنعتکاروں کو بہتر سہولیات دینے کےلیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کے مسائل حل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، تاجروں صنعتکاروں کو بےجا تنگ کرنے والے افسران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: نے کہا کہ

پڑھیں:

ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپی کے فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان سے ضم قبائلی اضلاع کیلئے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحالی کی درخواست کردی۔ وزیراعظم کو بھیجے گئے خط میں گورنر نے مطالبہ کیا کہ ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ میں توسیع کرتے ہوئے انضمام کے وقت قبائلی عوام سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ ضم قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ وفاقی ٹیکسوں کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ صوبائی حکومت پہلے ہی ضم شدہ اضلاع اور پاٹا پر عائد تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکس برقرار رہنے سے عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل رہا۔ دریں اثناء گورنر فیصل کریم کنڈی سے پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) پشاور کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر سہیل امیر مروت نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔ ادارے کی تحقیق و ترقی (ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ)، جاری پی ایس ڈی پی منصوبوں، ادارے کی تحقیقی صلاحیتوں اور استعداد سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

متعلقہ مضامین

  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے سالانہ 5 ہزار ارب روپے کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • عاطف اسلم کا نیا البم ’صبح آئے نہ‘ کب ریلیز ہو گا؟ گلوکار نے بڑی اپڈیٹ دے دی
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے