وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو جیل سے تحریک نہیں چلانے دیں گے، اگر پی ٹی آئی والے غلطیاں دہراتے رہے تو ان کے ساتھ ایک اور 8 فروری ہو جائےگا۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان دھمکیاں دیں گے تو ان کی مشکلات میں اضافہ ہوگا، پھر یہ کہتے پھریں گے کہ ہماری ملاقات نہیں ہورہی۔

یہ بھی پڑھیں: احتجاجی تحریک کا اعلان ہو چکا، چند دن میں لائحہ عمل دیں گے : جیل سے عمران خان کا پیغام

رانا ثنااللہ نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ کا مؤقف ہے سیاسی جماعتیں آپس میں مذاکرات کریں، پی ٹی آئی کے ساتھ سنگجانی میں مذاکرات ہو سکتے تھے، لیکن موقع ضائع کردیا گیا۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو تین بار بات چیت کی آفر کی، حالیہ بجٹ سیشن کے دوران بھی پی ٹی آئی کو بات چیت کی پیشکش کی گئی۔

مشیر وزیراعظم نے کہاکہ پی ٹی آئی نے 2018 میں ہمارا مینڈیٹ چوری کرکے حکومت بنائی لیکن ہم نے پھر بھی ان کو مذاکرات کی پیشکش کی، جسے مسترد کردیا گیا۔

واضح رہے کہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی نے عیدالاضحیٰ کے بعد حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا، تاہم ایران اسرائیل جنگ کے باعث تحریک کا وقت آگے لے جانے کا کہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ’ہمیں دیوار سے لگایا جارہا ہے‘، عمران خان نے ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا

اب ایران اسرائیل جنگ ختم ہوگئی ہے، تاہم ابھی تک بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا وقت نہیں دیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews حکومت اپوزیشن مذاکرات رانا ثنااللہ شہباز شریف عمران خان رہائی مسلم لیگ ن وزیراعظم پاکستان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: حکومت اپوزیشن مذاکرات رانا ثنااللہ شہباز شریف عمران خان رہائی مسلم لیگ ن وزیراعظم پاکستان وی نیوز رانا ثنااللہ پی ٹی ا ئی تحریک کا نے کہاکہ

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان