آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کے نفاذ کیلیے بل قومی اسمبلی سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
قومی اسمبلی میں گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس پر لیوی لگانے سے متعلق بل 2025 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
جے یو آئی رکن عالیہ کامران کے مطالبے پر ارکان کی گنتی کی گئی جس پر حکومتی ارکان 99 جبکہ اپوزیشن 44 نکلے۔ حکومتی ارکان زیادہ ہونے کے باعث تحریک پیش کرنے کی منظوری دی گئی تھی جو قومی اسمبلی نے منظور کر لی۔
آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی کے نفاذ کے لیے بل قومی اسمبلی سے منظور کر لیا گیا۔
منظور کیے گئے بل میں تجویز دی گئی کہ قدرتی گیس یا آر ایل این جی پر چلنے والے آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کی جائے اور لیوی کے نرخ میں فوری طور پر پانچ فیصد اضافہ کیا جائے۔
بل میں لیوی کی شرح میں جولائی 2025 تک مزید 10 فیصد اضافہ، فروری 2026 تک 15 فیصد اور اگست 2026 تک لیوی کی شرح میں 20 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
بل کے متن کے مطابق کیپٹو پاور پلانٹس سے حاصل ہونے والی لیوی توانائی کے نرخوں میں کمی کے لیے استعمال کی جائے گی، محصول کے ذریعے توانائی شعبے کے تمام درجے کے صارفین کے لیے نرخوں میں کمی لائی جائے گی۔
دوسری جانب، وفاقی وزیر معین وٹو نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے خلاف قرارداد پیش کیں۔ قومی اسمبلی نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد کے متن کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو جنگ تصور کیا جائے، حکومت پاکستان سندھ طاس کے حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاور پلانٹس پر لیوی کیپٹو پاور پلانٹس قومی اسمبلی
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔