کراچی، قانون کے رکھوالے بکرا چور نکلے، 7 پولیس اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد میں بکرے کی چوری کا ایک غیرمعمولی اور تشویش ناک واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں چوری کا الزام کسی عام شہری پر نہیں بلکہ قانون کے محافظوں پر لگایا گیا ہے۔
عزیز آباد تھانے کے سات پولیس اہلکاروں پر ایک بکرا چرانے کا الزام عائد ہوا ہے، جس کے بعد تمام اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ واقعہ غیرقانونی مویشی منڈی کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد انکشاف ہوا کہ ایک اہلکار کو بکرا علیحدہ کرتے اور پھر دوسرے اہلکار کے حوالے کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جو اُسے لے کر روانہ ہو جاتا ہے۔
فوٹیج کے منظر عام پر آتے ہی معاملے نے سنگینی اختیار کر لی، ذرائع کے مطابق دو اہلکاروں کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ پانچ مزید اہلکار تفتیش کی زد میں ہیں۔
ایس ایس پی سینٹرل زیشان صدیقی نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر تمام سات اہلکاروں کو معطل کر کے محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق انکوائری مکمل ہونے تک معطل اہلکاروں کو کسی بھی ڈیوٹی پر تعینات نہیں کیا جائے گا۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چوری کیا گیا بکرا بازیاب کر لیا گیا ہے اور اُسے اس کے اصل مالک کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گیا ہے
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔