عوام کیلئے سستی بجلی :آئی ایم ایف کو وزیراعظم کی تجویز پر اعتراض ، نیا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) آئی ایم ایف نے وزیراعظم کی جانب سے ریلیف اقدامات پر اعتراضات اٹھادیے اور بجٹ میں سستی بجلی دینے کے لیے اضافی سبسڈی نہ دی جائے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی، ذرائع نے بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ مذاکرات پر اتفاق نہ ہوسکا۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے وزیراعظم کی جانب سے ریلیف اقدامات پر اعتراضات اٹھادیے اور وزیراعظم کے عوام کیلئے بجلی کی اضافی سبسڈی دینے کی تجویز پر راضی نہ ہوا۔
آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں عوام کو سستی بجلی دینے کیلئے اضافی پاور سبسڈی نہ دی جائے۔
اس کے ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ نے صنعتی صارفین کیلئے بجلی ریٹ کم کرنے کی حکومتی تجویزبھی مستردکردی اور کہا آئندہ مالی سال کے دوران بجلی ٹیرف میں بروقت اضافہ کرنا ہوگا جبکہ نیپراسہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ،ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ بروقت کرنے کا پابند ہوگا۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے واضح کیا کہ آئندہ مالی سال گردشی قرضہ ختم کرنےکیلئے جو پلان دیا گیا اس پرعملدرآمد کرنا ہوگا۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی پی پیز سےبات چیت کرکےسرکلرڈیٹ میں 348 ارب روپےکلیئرکمی کی جائے گی اور سرکلرڈیٹ کم کرنے کیلئے 387 ارب روپے سود کی اضافی رقم ختم کرکے ایڈجسٹ کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ گردشی قرضہ ختم کرنے کیلئے 254ارب روپے کی اضافی بجٹ کی سبسڈی سے کلیئر دی جائے گی اور کمرشل بینکوں سے قرض لیکر 1252 ارب روپے کا گردشی قرضہ ختم کیا جائے گا۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے مطالبہ کیا پاور سیکٹر کا گردشی قرض آئندہ مالی سال زیروان فلو پر رکھا جائے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں ایف بی آر نے 14 ہزار 307 ارب روپے ہدف پرنظرثانی کی درخواست کی ، جس پر آئی ایم ایف ایف بی آر ٹارگٹ 14050 سے 14100 ارب روپے تک مقرر کرنے پر جزوی راضی ہوا۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے اعتراض اٹھایا کہ ایک جانب ایف بی آر ٹیکس اہداف نہیں بڑھا رہادوسری جانب اخراجات بڑھارہےہیں، اخراجات مقررہ ہدف سے بڑھائے گئے تو پرائمری بیلنس کاہدف حاصل نہیں ہوسکے گا، پرائمری بیلنس کا سرپلس ہدف حاصل کرنا موجودہ قرض پروگرام کی انتہائی اہم شرط ہے۔
مزید پڑھیں :کراچی میں کورونا سے 4 اموات ، حقیقت سامنے آگئی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: عالمی مالیاتی فنڈ نے ا ئی ایم ایف ارب روپے
پڑھیں:
حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 23 جولائی 2026ء ) وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان کردیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کردیا ہے۔ پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے۔ جبکہ ڈیزل کی قیمت فی لیٹر قیمت میں 3 روپے 62 پیسے اضافہ کر دیا گیا ہے، ڈیزل کی نئی قیمت 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی۔(جاری ہے)
نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 کے بعد ایک دن کیلئے ہوگا۔ یاد رہے وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم مصنوعات کے لیے روزانہ قیمتوں کے تعین کا نیا نظام منظور کر لیا جس کے تحت اوگرا اب پیٹرول اور ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمتیں روزانہ جاری کرے گا۔ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں گزشتہ سات کاروباری دن کی اوسط عالمی قیمت کے مطابق ہوں گی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی مارکیٹ کے حساب سے کیا جائے گا۔ قیمتوں کے اعلان کے لیے وزیراعظم یا وفاقی حکومت کی پیشگی منظوری درکار نہیں ہوگی جبکہ اوگرا بغیر وزیراعظم یا حکومت کی منظوری کے قیمتوں کا اعلان کرے گا۔